بی آر ٹی ییلو لائن کرپشن کیس: ملزم کی درخواستِ ضمانت پرعدالت کا تحریری فیصلہ جاری
کراچی:(دنیا نیوز) شہرِ قائد کی اینٹی کرپشن عدالت نے بی آر ٹی ییلو لائن منصوبے میں مبینہ کرپشن کیس میں ملزم ضمیر عباسی کی درخواستِ ضمانت پر تحریری فیصلہ جاری کردیا۔
عدالت نے فیصلے میں قرار دیا کہ ریکارڈ پر موجود مواد، سی ایم آئی ٹی رپورٹ اور دستاویزی شواہد بادی النظر میں ملزم کو جرائم سے جوڑنے کے لیے کافی ہیں۔
فیصلے میں لکھا گیا کہ انکوائری رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ادائیگیاں معاہدے کی شرائط، مالیاتی قواعد اور پروکیورمنٹ طریقہ کار کے خلاف کی گئیں جن سے حکومت کو مالی نقصان اور نجی ٹھیکیداروں کو غیر قانونی فائدہ پہنچا۔
عدالت نے کہا کہ بادی النظر میں انکوائری سے اختیارات کے ناجائز استعمال اور مجرمانہ بددیانتی سامنے آتی ہے، بدعنوانی اور عوامی فنڈز میں خردبرد جیسے مقدمات عام جرائم سے مختلف نوعیت رکھتے ہیں، اس لیے ایسے کیسز میں ضمانت کے معاملے پر محتاط رویہ اختیار کرنا ضروری ہے۔
فیصلے میں یہ عدالت نے تحریر کیا کہ اربوں روپے کے عوامی فنڈز سے متعلق مقدمات میں ضمانت دینے سے احتسابی عمل پر عوامی اعتماد متاثر ہوسکتا ہے اور بااثر سرکاری افسران کے اختیارات کے ناجائز استعمال کے حوالے سے غلط تاثر پیدا ہونے کا خدشہ بھی موجود ہے۔
فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ سپیشل پراسیکیوٹر نے ضمانت کی مخالفت نہ کرنے کا مؤقف اختیار کیا، تاہم متعلقہ مجاز اتھارٹی کی تحریری منظوری پیش نہیں کی گئی، اس لیے اس رعایت کو قبول نہیں کیا جاسکتا۔
دوسری جانب وکیلِ صفائی نے مؤقف اختیار کیا کہ مقدمہ سیاسی اور بدنیتی پر مبنی ہے، ملزم نے کوئی ذاتی مالی فائدہ حاصل نہیں کیا، تمام فیصلے سرکاری ذمہ داریوں کی انجام دہی کے دوران کیے گئے اور منصوبے کی بروقت تکمیل حکومت کی پالیسی تھی۔
دوسری جانب وکیلِ صفائی نے یہ بھی کہا کہ سی ایم آئی ٹی رپورٹ فوجداری جرم ثابت کرنے کے لیے ناکافی ہے اور اینٹی کرپشن نے قانون کے مطابق ابتدائی انکوائری بھی نہیں کی۔