لاہور ہائیکورٹ نے محکمہ صحت کے 6 ملازمین کی اپ گریڈیشن بحال کردی
لاہور: (محمد اشفاق) لاہور ہائیکورٹ نے الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز کی اپ گریڈیشن واپس لینے کے حکومتی احکامات کالعدم قرار دیتے ہوئے محکمہ صحت کے 6 ملازمین کو ان کے اپ گریڈ شدہ عہدوں پر بحال کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے اپ گریڈیشن کی بنیاد پر ادا شدہ تنخواہوں کی ریکوری اور ریٹائرڈ ملازمین کے پنشن و ریٹائرمنٹ فوائد میں کمی سے متعلق احکامات بھی کالعدم قرار دے دیے۔
لاہور ہائیکورٹ کی جسٹس شیریں عمران نے چھ ملازمین کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے تحریری فیصلہ جاری کردیا، درخواست گزاروں میں محمد فیاض الحق سمیت محکمہ صحت کے چھ ملازمین شامل تھے، جنہوں نے اپ گریڈیشن واپس لینے کے حکومتی نوٹیفکیشن کو عدالت میں چیلنج کیا تھا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ متعلقہ ملازمین کی اپ گریڈیشن 2011 کے نوٹیفکیشن کے مطابق بحال کی جائے اور ان کی سروس و مالی فوائد کا ازسرنو تعین کیا جائے۔
درخواست گزاروں کے مطابق محکمہ صحت نے 2011 میں ملازمین کی اپ گریڈیشن کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا، تاہم 2015 میں انہیں دوبارہ پرانے عہدوں اور سکیلز پر بحال کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا، جس سے ان کے سروس اور مالی حقوق متاثر ہوئے۔
عدالت نے اپ گریڈیشن کی بنیاد پر ملازمین کو پہلے سے ادا کی گئی تنخواہوں کی ریکوری کے احکامات بھی کالعدم قرار دے دیے، اس کے علاوہ ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن اور ریٹائرمنٹ فوائد میں کمی سے متعلق احکامات بھی ختم کردیے گئے۔
تحریری فیصلے میں اس امر پر زور دیا گیا کہ سرکاری ملازمین کے سروس اسٹرکچر اور مالی حقوق کو متاثر کرنے والے اقدامات کے لیے قانونی جواز اور منصفانہ طریقہ کار اختیار کرنا ضروری ہے۔
عدالت نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ملازمین کے سروس اسٹرکچر اور انفرادی ریکارڈ کا درست طور پر جائزہ لیا جائے تاکہ ان کی اپ گریڈیشن، سروس اور مالی فوائد کا تعین متعلقہ قواعد و ضوابط کے مطابق کیا جاسکے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments