ایلون مسک کی اے آئی فلم ’اوڈیسی‘ کی پہلی قسط جاری، مکمل فلم 2026 میں بنانے کا منصوبہ

کیلیفورنیا: (ویب ڈیسک) معروف امریکی کاروباری شخصیت ایلون مسک نے یونانی شاعر ہومر کی مشہور رزمیہ تخلیق ’اوڈیسی‘ سے متاثر ہوکر مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کی جانے والی فلم کی پہلی قسط جاری کردی ہے۔

سات منٹ سے زائد دورانیے کی ویڈیو کے ذریعے ایلون مسک نے اپنے اے آئی فلم سازی کے منصوبے کی جھلک پیش کی اور سوشل میڈیا صارفین سے اس پر رائے بھی طلب کی۔

ایلون مسک نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ اس منصوبے میں ان کی کمپنی کے مصنوعی ذہانت کے نظام ’گروک امیجن‘ کا استعمال کیا گیا ہے۔ اس منصوبے میں ونڈر اسٹوڈیوز اور ہدایت کار دیو واکر بھی شریک ہیں۔

ایلون مسک اس سے قبل اعلان کرچکے ہیں کہ وہ 2026 کے اختتام سے پہلے مصنوعی ذہانت کی مدد سے ایک مکمل فلم تیار کریں گے، ان کے مطابق فلم میں تاریخی حقائق اور ہومر کی اصل تخلیق سے مطابقت برقرار رکھنے کی کوشش کی جائے گی، تاہم باقی اقساط کی ریلیز کے حوالے سے تاحال کوئی حتمی تاریخ سامنے نہیں آئی۔

مسک اس سے قبل معروف ہدایت کار کرسٹوفر نولان کی فلم ’اوڈیسی‘ پر بھی تنقید کرچکے ہیں۔ ان کے اعتراضات میں اداکارہ لوپیتا نیونگو کو ہیلن آف ٹرائے اور ایلیٹ پیج کو سینون کے کردار میں کاسٹ کرنا شامل تھا۔

مسک کا مؤقف تھا کہ ہیلن آف ٹرائے کو روایتی داستانوں میں غیر معمولی حسن کی حامل خاتون کے طور پر پیش کیا گیا ہے اور ان کی خوبصورتی ٹروجن جنگ کے پس منظر میں اہم کردار رکھتی ہے۔ اسی بنیاد پر انہوں نے لوپیتا نیونگو کی کاسٹنگ پر اعتراض کیا تھا۔

مسک کے اس مؤقف کے بعد فلموں میں کاسٹنگ، تاریخی نمائندگی اور قدیم داستانوں کو جدید انداز میں پیش کرنے کے حوالے سے بحث چھڑ گئی تھی۔

ایلون مسک کی اپنی اے آئی فلم کا منصوبہ بھی اس بحث کو اہمیت دے رہا ہے کہ مصنوعی ذہانت مستقبل میں فلم سازی اور تخلیقی صنعتوں کو کس حد تک تبدیل کرسکتی ہے۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...