والدین کی جبری گمشدگی کے خلاف بلوچستان ہائی کورٹ کا فیصلہ چیلنج

کوئٹہ: (دنیا نیوز) والدین کی جبری گمشدگی کے خلاف بلوچستان ہائی کورٹ کا فیصلہ وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کر دیا گیا۔

والدین کی بازیابی کیلئے بی بی شکریہ نے بیرسٹر عمر اعجاز گیلانی کے ذریعے درخواست وفاقی آئینی عدالت میں دائر کی جس میں درخواست گزار کی جانب سے موقف اپنایا گیا کہ 16 ستمبر 2025 کو کوئٹہ کے علاقے سریاب روڈ سے والدین کو ایک بااثر سرکاری افسر نے اغوا کروایا، جبکہ والدین گزشتہ تین ماہ سے جبری طور پر لاپتہ ہیں۔

درخواست گزار نے کہا کہ بااثر سرکاری ملازم کے خلاف پولیس مقدمہ درج کرنے سے انکاری ہے، سی سی ٹی وی فوٹیج موجود ہونے کے باوجود اب تک کوئی کارروائی نہ ہوئی، ایف آئی آر درج کرنا پولیس کی قانونی ذمہ داری ہے۔

دائر درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ والدین کی جبری گمشدگی کے ساتھ بہن اور اس کے بچوں کو بھی حبسِ بے جا میں رکھا گیا ہے، ذاتی عناد کی بنیاد پر پورے خاندان کو نشانہ بنا کر افغان شہریت کا جھوٹا الزام لگایا گیا، جبکہ تشدد، گھروں پر چھاپوں کے ساتھ خاندان کو زبردستی ملک بدر بھی کیا گیا۔

درخواست میں مزید بتایا گیا بلوچستان ہائی کورٹ نے تحقیقات کا حکم دیا تھا، تاہم عدالتی احکامات پر تاحال عملدرآمد نہیں ہو سکا جبکہ اغواء سے قبل والدین نے جان کو لاحق خطرات سے متعلق تحریری اطلاع بھی دی تھی۔

دائر درخواست میں وفاقی آئینی عدالت سے استدعا کی گئی کہ انصاف اور قانون کے مطابق فیصلہ دیا جائے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں