منی لانڈرنگ کیس: وزیراعظم اور حمزہ کی بریت کے خلاف درخواست خارج

لاہور: (محمد اشفاق) لاہور ہائیکورٹ نے منی لانڈرنگ کے مقدمے میں وزیراعظم شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے خلاف درخواست پر رجسٹرار آفس کا اعتراض برقرار رکھتے ہوئے درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر مسترد کر دی۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مس عالیہ نیلم نے 16 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کے مقدمے میں وزیراعظم شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی بریت کے خلاف درخواست پر سماعت کی، درخواست ایڈووکیٹ وشال احمد شاکر نے سینئر قانون دان عامر سعید راں کی وساطت سے دائر کی۔

دوران سماعت وکیل نے موقف اختیار کیا کہ شہباز شریف نے وزیراعظم بننے کے 15 روز میں اپنے حق میں فیصلہ کروا لیا، فردِ جرم عائد ہونے سے قبل شہباز شریف اور حمزہ شہباز شریف نے بریت کی درخواستیں دائر کیں، سپیشل سنٹرل کورٹ کے جج نے درخواستوں کو منظور کرتے ہوئے شہباز شریف اور حمزہ شہباز شریف کو بری کیا۔

وکیل نے کہا کہ غیر قانونی فیصلے کے تحت سپیشل سنٹرل کورٹ کے جج نے ملزمان کو ریلیف دیا، ملزمان کو طلب کیے جانے کے باوجود فردِ جرم سے پہلے ہی بری کر دیا گیا، پراسیکیوشن نے عدالت میں تقریباً 100 گواہ پیش کرنے تھے، اربوں روپے کے سنگین مقدمے میں پراسیکیوشن کو شواہد پیش کرنے کا موقع دیئے بغیر فیصلہ سنانا ناانصافی ہے، لہذا عدالت ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو غیر قانونی اور کالعدم قرار دے۔

دوران سماعت چیف جسٹس مس عالیہ نیلم نے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ کس طرح متاثرہ فریق ہیں، کوئی بھی چار پانچ سالوں بعد آئے اور فیصلوں کو چیلنج کر دے، آپ سمجھتے ہیں ہم کوئی نیا قانون بنا دیں، یہ عوامی مفاد کا کیس نہیں ہے، رجسٹرار آفس نے درخواست گزار کے متاثرہ فریق نہ ہونے کا اعتراض عائد کیا تھا آپ اس مقدمے میں کیسے فریق ہیں؟

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ اس مقدمے کو اتنا عرصہ گزر گیا اور آپ آج عدالت آگئے ہیں؟ عدالت نے رجسٹرار آفس کے اعتراض کو برقرار رکھتے ہوئے درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر خارج کر دی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں