رجسٹرار کو درخواست ناقابلِ سماعت قرار دے کر واپس کرنے کا اختیار نہیں: عدالت
اسلام آباد: (دنیا نیوز) وفاقی آئینی عدالت نے اہم فیصلہ دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ رجسٹرار کو کسی آئینی درخواست کو ناقابلِ سماعت قرار دے کر واپس کرنے کا اختیار حاصل نہیں، کیونکہ درخواست قابلِ سماعت ہے یا نہیں اس کا فیصلہ صرف عدالت کر سکتی ہے۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے رجسٹرار آفس کے اعتراضات کے خلاف دائر چیمبر اپیل پر 6 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ رجسٹرار کا کردار صرف انتظامی نوعیت کا ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ رجسٹرار آفس صرف انتظامی نوعیت کے اعتراضات عائد کر سکتا ہے اور درخواست صرف اسی صورت واپس کر سکتا ہے جب وہ متعلقہ قواعد کے مطابق دائر نہ کی گئی ہو۔
فیصلے میں واضح کیا گیا کہ رجسٹرار آفس کسی صورت عدالتی اختیارات استعمال نہیں کر سکتا، کیونکہ آئین میں ایسی کوئی گنجائش موجود نہیں کہ عدالتی اختیارات کسی انتظامی افسر کو تفویض کیے جائیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے کہا کہ انتظامی افسر کو عدالتی اختیار دینا آئین میں درج اختیارات کی تقسیم کے اصول کے منافی ہے۔
وفاقی آئینی عدالت نے مزید قرار دیا کہ رجسٹرار آفس کسی آئینی درخواست کو غیر سنجیدہ قرار دینے کا بھی مجاز نہیں۔
تحریری فیصلے کے مطابق رجسٹرار آفس نے رضیہ اسلم کی آئینی درخواست 14 فروری کو ناقابلِ سماعت ہونے کا اعتراض لگا کر واپس کر دی تھی، جس کے خلاف درخواست گزار نے چیمبر اپیل دائر کی تھی، جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے مذکورہ اصولی فیصلہ جاری کیا۔