طالبان رجیم: افغانستان سے صحافیوں کی جلاوطنی تشویشناک حد تک بڑھ گئی

کابل: (دنیا نیوز) قابض طالبان رجیم میں آزادی صحافت بدترین زوال کا شکار ہے جہاں سچ بولنا اور حقائق سامنے لانا جرم بن چکا ہے۔

رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز نے 2021 سے اب تک جلا وطنی اختیار کرنے والے صحافیوں کی تفصیلات جاری کر دیں۔

رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز کے مطابق افغان طالبان رجیم کے قبضے کے بعد افغانستان سے صحافیوں کی ریکارڈ تعداد میں جلاوطنی دیکھی گئی ہے۔

آر ایس ایف کے مطابق طالبان رجیم کے ظلم و ستم کا شکار 677 افغان صحافی دنیا کے 28 ممالک میں دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں، طالبان رجیم میں لاحق خطرات اور دباؤ کے باعث 2022 میں 183 اور 2025 میں 82 افغان صحافی ملک چھوڑ چکے ہیں۔

طالبان رجیم میں صحافیوں کے پاس صحافت چھوڑنے، جلاوطن ہونے اور جیل بھگتنے میں سے کوئی ایک راستہ ہی رہ گیا ہے، طالبان رجیم عوامی اور میڈیا کی آزادیوں پر قدغنیں لگا رہی ہے، اس وقت بھی 5 افغان صحافی طالبان کی حراست میں ہیں۔

رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز کے جنوبی ایشیا ڈیسک کی سربراہ سیلیا مرسیئر کے مطابق قابض طالبان رجیم کے دور میں افغانستان میں میڈیا منظم جبر، پابندیوں اور حکام کے سخت کنٹرول کا شکار ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان رجیم میں افغان صحافیوں کو سچ بولنے کی قیمت قید، خاموشی یا جلاوطنی کی صورت میں چکانی پڑ رہی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں