غزہ میں اسرائیلی دہشتگردی سے الجزیرہ کے نمائندے سمیت 6 افراد شہید
غزہ: (ویب ڈیسک) غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 6 افراد شہید ہو گئے ہیں، جن میں خبر رساں ادارے الجزیرہ کے ایک کیمرہ مین اور کم از کم ایک بچہ بھی شامل ہے۔
قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ نے اپنے نامہ نگار احمد وشاح کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے صحافیوں کو نشانہ بنانے کا ایک گھناؤنا جرم قرار دیا ہے، احمد وشاح وسطی غزہ میں ایک گھر پر ہونے والے حملے میں جان سے گئے ۔
دوسری جانب اسرائیلی دفاعی افواج نے مضحکہ خیز دعویٰ کیا ہے کہ احمد وشاح حماس کے عسکری ونگ سے وابستہ تھے اور بطور سنائپر آپریٹو خدمات انجام دے رہے تھے۔
غزہ کی حماس کے زیر انتظام وزارتِ صحت، جس کے اعداد و شمار کو اقوام متحدہ قابلِ اعتماد سمجھتی ہے، کے مطابق گزشتہ اکتوبر میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد سے اب تک اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں 1007 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
الجزیرہ نے اپنے بیان میں کہا کہ احمد وشاح کی ہلاکت بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے اور یہ صحافیوں کو نشانہ بنانے اور حقائق کی آواز دبانے کی مسلسل پالیسی کی عکاسی کرتی ہے۔

مقامی ہسپتال اور حماس کے زیر انتظام سول ڈیفنس ادارے کے مطابق البریج پناہ گزین کیمپ میں جس گھر کو نشانہ بنایا گیا، اس حملے میں احمد وشاح سمیت تین افراد ہلاک ہوئے، اسرائیلی فوج نے دیگر دو ہلاک افراد پر بھی حماس سے وابستگی کا الزام لگایا ہے۔
واضح رہے کہ احمد وشاح کے بھائی محمد وشاح، جو الجزیرہ کے نامہ نگار تھے، اپریل میں ایک اسرائیلی حملے میں شہید گئے تھے، اسرائیلی فوج نے اس وقت بھی دعویٰ کیا تھا کہ وہ حماس کے راکٹ اور اسلحہ سازی کے مرکز سے وابستہ تھے تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
ادھر غزہ شہر کے صبرہ علاقے میں رات گئے ایک گھر پر ہونے والے فضائی حملے میں ایک ہی خاندان کے چار افراد ہلاک ہو گئے، سول ڈیفنس، اہلِ خانہ اور قریبی ہسپتال کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں بچے بھی شامل تھے۔
شفا ہسپتال کے مطابق اسے اس خاندان کی لاشیں موصول ہوئی ہیں، جن میں دو بچے شامل تھے، طبی ذرائع نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے افراد میں دو خواتین اور ایک بچہ بھی شامل تھا۔
اس دوران جنوبی اور شمالی غزہ کے مختلف علاقوں میں بھی اسرائیلی حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔