’’پہلے فائر نہ کیا جائے ‘‘سابق بھارتی آرمی چیف کی کتاب پر لوک سبھا میں شدید ہنگامہ،8کانگریس ارکان معطل

’’پہلے فائر نہ کیا جائے ‘‘سابق بھارتی  آرمی چیف کی کتاب پر لوک سبھا میں  شدید ہنگامہ،8کانگریس ارکان معطل

نئی دہلی(دنیا مانیٹرنگ)بھارتی پارلیمان میں سابق آرمی چیف جنرل منوج مُکند نراونے کی غیر شائع شدہ یادداشتوں کے اقتباسات پر منگل کو شدید ہنگامہ ہوا۔ قائد حزب اختلاف راہول گاندھی نے لوک سبھا میں کتاب کے چند حصے پڑھنے کی کوشش کی، جن میں 2020 میں لداخ میں چین اور بھارت کے درمیان سرحدی جھڑپوں کا تفصیلی ذکر تھا۔

 راہل گاندھی نے کہا کہ اقتباسات سننے سے واضح ہوگا کہ کون محب وطن ہے اور کون نہیں، تاہم حکومتی ارکان نے اس پر اعتراض کر دیا۔وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ، وزیر داخلہ امیت شاہ اور وزیر پارلیمانی امور نے کہا کہ چونکہ کتاب ابھی شائع نہیں ہوئی، اس لیے اقتباسات پڑھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ہنگامہ آرائی کے باعث ایوان کی کارروائی تقریباً 45 منٹ بعد معطل کر دی گئی اور کانگریس کے 8ارکان کو معطل کیا گیا۔کتاب کا عنوان "فور سٹارز آف ڈیسٹنی" ہے ، جس میں نراونے نے بتایا کہ چین کے ٹینک لداخ میں بھارتی چوکیوں سے محض چند سو میٹر فاصلے پر پہنچ گئے تھے ، تاہم انہیں فائر نہ کرنے کے لیے اعلیٰ سطحی اجازت کے انتظار میں رکھا گیا۔ نراونے کے مطابق انہوں نے شمالی کمانڈر سے کہا کہ ٹینکوں کو ڈھلوان تک لے جائیں تاکہ ضرورت پڑنے پر ان پر کارروائی کی جا سکے ، لیکن پہلے فائر نہ کیا جائے ۔کانگریس نے الزام لگایا کہ مودی حکومت کتاب کی اشاعت روک کر حقیقت کو دبانا چاہتی ہے ، جبکہ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ یہ اقتباسات قومی مفاد میں عوام تک پہنچنے چاہئیں تاکہ فوجی قیادت اور سیاسی فیصلوں کی شفافیت سامنے آئے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں