’’دادو آہے ہیں‘‘ امیر جماعت اسلامی کے چرچے

’’دادو آہے ہیں‘‘ امیر جماعت اسلامی کے چرچے

67سالہ شفیق الرحمن3قومی انتخابات میں ناکام رہے ،اہلیہ رکن پارلیمنٹ بنیں حسینہ دور میں لوگ پورا نام بمشکل جانتے تھے ،جین زی انقلاب نے تقدیر بدلی پچھلے سال پابندی ختم ہونے پر پارٹی دوبارہ منظر عام پرآئی،سیاسی خلا کا فائدہ اٹھایا خواتین سے متعلق خیالات کی وجہ سے تنازعات کا شکار،خاتون امیدوار نہ کھڑی کی مہم کے پوسٹرز’’گیم آف تھرونز‘‘سے متاثر،بدعنوانی کیخلاف اقدامات پر زوردیا

 ڈھاکہ (رائٹرز)شفیق الرحمن طویل عرصے تک بنگلہ دیشی سیاست کے کنارے پر رہے ہیں، لیکن اب ان کا باریش چہرہ ڈھاکہ بھر میں پوسٹرز اور بل بورڈز پر دکھائی دے رہا ہے ، جو ووٹروں سے درخواست کر رہے ہیں کہ وہ جماعت اسلامی کی قیادت میں ملک کی پہلی اسلامی حکومت کے لیے ووٹ دیں۔ 67سالہ ڈاکٹر  اور امیر جماعت اسلامی دہائیوں تک زیادہ تر صرف اسلامی حلقوں میں جانے جاتے تھے ، مگر اب وہ وزیرِ اعظم کے لیے ایک سنجیدہ امیدوار کے طور پر ابھرے ہیں۔ جماعت کا اتحاد ممکنہ طور پر سابق اتحادی اور سب سے زیادہ مقبول جماعت، بنگلہ دیش نیشنل پارٹی کے ساتھ سخت مقابلہ کرے گا۔بنگلہ دیش 12 فروری کو اپنا انتخابی عمل مکمل کرے گا، یہ 2024 میں جین زی (Gen Z)انقلاب میں سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ کی رخصتی کے بعد پہلے قومی انتخابات ہیں۔

رائے عامہ کے سروے بتاتے ہیں کہ جماعت اسلامی ،جو کبھی کالعدم تھی ، اس بار اپنی سب سے مضبوط کارکردگی کے لیے تیار ہے ۔ شفیق الرحمن کو 2022 میں مبینہ طور پر ممنوعہ عسکریت پسند تنظیم کے ارکان کی مدد کرنے پر گرفتار کیا گیا اور 15 ماہ کے لیے جیل میں رکھا گیا۔لیکن 2024 کے انقلاب نے جماعت اور شفیق الرحمن کی تقدیر بدل دی۔ 2025 میں ایک عدالت نے پارٹی پر عائد پابندی ختم کر دی، جس سے وہ دوبارہ منظرِ عام پر آ گئی، حالانکہ طویل عرصے تک اسے چھپ کر سرگرم رہنا پڑا تھا۔ جماعت نے جلد ہی اپنا اثر و رسوخ بڑھانا شروع کر دیا، فلاحی کاموں اور سیلاب سے بچاؤ کی کارروائیوں میں حصہ لینا شروع کیا ،شفیق الرحمن کی سفید داڑھی اور مکمل سفید لباس نے انہیں ایک نمایاں شخصیت بنا دیا۔انہوں نے 1984 میں باضابطہ جماعت میں شمولیت اختیار کی اور 1996، 2001 اور 2018 کے قومی انتخابات میں ناکام رہے ۔ وہ 2020 میں پارٹی کے سربراہ بن گئے۔

ان کی بیوی، آمنہ بیگم، 2018 میں پارلیمنٹ کی رکن رہیں اور وہ بھی ڈاکٹر ہیں، بالکل جیسے ان کی دو بیٹیاں اور ایک بیٹا۔ شفیق الرحمن شمال مشرقی ضلع سِلہیٹ میں ایک خاندانی ہسپتال کے بانی سربراہ ہیں۔ڈھاکا میں کئی لوگ کہتے ہیں کہ حسینہ کے دور میں وہ شفیق الرحمن کا پورا نام بھی بمشکل جانتے تھے ، جو ان کے اہم حریف اور بنگلہ دیش نیشنل پارٹی کے سربراہ طارق الرحمن کے برعکس ہے ، جو سابق وزیرِ اعظم خالدہ ضیا اور سابق صدر ضیا الرحمٰن کے بیٹے ہیں۔ اس وقت دو رحمن جو سب سے بڑے عہدے کے لیے لڑ رہے ہیں، آپس میں کسی رشتہ میں نہیں ہیں۔ جماعت اسلامی اپنے رہنما کو ایک عاجز اور مخلص شخص کے طور پر پیش کرتی ہے جو سادہ، منظم اور قابل رسائی زندگی گزارنے والا ہے ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ شفیق الرحمن نے انقلاب کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی خلا سے فائدہ اٹھایا۔ڈھاکہ یونیورسٹی کے پروفیسر شفیع محمد مصطفی کہتے ہیں:انقلاب کے بعد کے مہینے میں بنگلہ دیش میں کوئی نمایاں رہنما نظر نہیں آ رہا تھا۔

طارق الرحمن لندن میں جلاوطنی میں تھے ۔شفیق الرحمن نے ملک بھر کا سفر کیا، میڈیا کی توجہ حاصل کی، اور محض دو سال میں ہی وہ ایک اہم امیدوار بن گئے ۔انتخابی مہم کے دوران ان کی تقریریں بعض ووٹروں پر اثر انداز ہوئیں، اور جماعت کو ایک صاف، اخلاقی اور اسلامی اقدار پر مبنی متبادل کے طور پر پیش کیا۔ دسمبر میں پارٹی نے جین زی نیشنل سٹیزن پارٹی کے ساتھ اتحاد کیا، جس سے نوجوان اور کم قدامت پسند ووٹروں میں اس کی اپیل بڑھ گئی۔مہم کے پوسٹرز، جو  گیم آف تھرونز سے متاثر ہیں، ملک بھر میں نمودار ہوئے ، جس میں شفیق الرحمن کے ساتھ لکھا ہے :دادو آ رہے ہیں(بنگالی میں دادو کا مطلب دادا ہے )۔کچھ لوگوں کے نزدیک جماعت اسلامی کا زیادہ معتدل چہرہ تصور کیے جانے والے شفیق الرحمن نے بدعنوانی مخالف اقدامات اور سماجی انصاف پر زور دیا۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ تمام مذاہب کے ساتھ یکساں سلوک کیا جائے گا۔تاہم شفیق الرحمن خواتین کے بارے میں اپنے خیالات کی وجہ سے تنازعات کا شکار رہے ہیں، اور پارٹی نے ایک بھی خاتون امیدوار میدان میں نہیں اتاری۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں