بجلی نرخوں میں تبدیلی کا بوجھ کم آمدنی والے پاکستانیوں پر نہیں پڑنا چاہیے : آئی ایم ایف

 بجلی نرخوں میں تبدیلی کا بوجھ کم آمدنی والے پاکستانیوں پر نہیں پڑنا چاہیے : آئی ایم ایف

حکام سے مجوزہ تبدیلیوں پربات چیت جاری، مذاکرات میں دیکھیں گے ٹیرف ترامیم حکومتی وعدوں سے مطابقت رکھتی ہیں یا نہیں ٹیرف ترامیم کے مہنگائی ،معاشی استحکام پر ممکنہ اثرات کا بھی جائزہ لینگے ،گردشی قرضوں کو پروگرام کے اہداف کے اندر رکھا گیا :اعلامیہ

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک)عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)نے کہا ہے کہ وہ پاکستانی حکام کے ساتھ بجلی کی قیمتوں میں مجوزہ تبدیلیوں پر بات چیت کر رہا ہے ، تاہم ان تبدیلیوں کا بوجھ متوسط یا کم آمدنی والے افراد پر نہیں پڑنا چاہئے ۔برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق آئی ایم ایف نے اپنے اعلامیہ میں کہا کہ پاکستانی حکام کے ساتھ جاری بات چیت میں اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ آیا نرخوں میں مجوزہ تبدیلیاں وعدوں سے مطابقت رکھتی ہیں یا نہیں اور میکرو اکنامک استحکام، بشمول مہنگائی، پر ان کے ممکنہ اثرات کا تخمینہ لگایا جائے گا۔پاکستان نے  بجلی کی قیمتوں میں مجوزہ بڑی تبدیلیوں کا اعلان کیا ہے جن کے بارے میں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس سے مہنگائی میں اضافہ ہو گا جب کہ صنعت پر دباؤ کم ہو گا، کیوں کہ حکومت سات ارب ڈالر کی توسیع شدہ فنڈ فیسیلٹی (ای ایف ایف) کے تحت شرائط کو پورا کرنا چاہتی ہے جبکہ آئی ایم ایف کا ایک اور جائزہ قریب آ رہا ہے۔

رائٹرز کے مطابق پاکستان کے کنزیومر پرائس انڈیکس میں بجلی کی نمایاں اہمیت ہے ، جس کی وجہ سے نرخوں میں ردوبدل اُس وقت انتہائی حساس ہو جاتا ہے جب مہنگائی ایک اہم سیاسی اور معاشی دباؤ کا نکتہ بنی ہوئی ہے ، اگرچہ مہنگائی کی شرح 2023 میں اپنی تقریباً 40 فیصد کی بلند ترین سطح سے کافی کم ہے ۔پاکستان کا پاور سیکٹر طویل عرصے سے گردشی قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے جو ادا نہ کیے گئے بلز اور سبسڈی کا ایک سلسلہ ہے جو پیداواری کمپنیوں، تقسیم کاروں اور حکومت کے درمیان جمع ہوتا رہتا ہے جس کی وجہ سے 2023 سے آئی ایم ایف کی حمایت یافتہ اصلاحات کے تحت بار بار نرخوں میں اضافہ کیا گیا۔عالمی مالیاتی فنڈ نے مزید کہا کہ وصولیوں اور نقصان کی روک تھام پر بہتر کارکردگی کی مدد سے پاور سیکٹر کے گردشی قرضوں میں اضافے کو پروگرام کے اہداف کے اندر رکھا گیا ہے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں