غزہ :عبوری پولیس فورس کیلئے بھرتیاں ،2ہزار درخواستیں جمع
اسرائیلی حملوں سے فلسطینی علاقوں میں نسل کشی کا خطرہ بڑھ گیا ہے :اقوام متحدہ جب تک حماس ہتھیار نہیں چھوڑتی تب تک غزہ کی تعمیر نو نہیں ہوگی :اسرائیل
واشنگٹن،یروشلم(اے ایف پی)غزہ میں حماس کی سکیورٹی کی جگہ لینے کے لیے نئی عبوری فلسطینی پولیس فورس کی بھرتیاں جمعرات سے شروع ہو گئی ہیں۔ امریکی نمائندہ برائے غزہ نکولائی ملادینوف نے کہا کہ صرف چند گھنٹوں میں دو ہزار افراد نے درخواستیں جمع کرائی ہیں۔ یہ اعلان صدر ٹرمپ کے "بورڈ آف پیس" کے افتتاحی اجلاس کے موقع پر کیا گیا۔ نئی پولیس فورس کا مقصد امن قائم کرنا اور مقامی سکیورٹی کو حماس سے منتقل کرنا ہے ۔ اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ غزہ پٹی اور مغربی کنارے میں اسرائیل کی بڑھتی ہوئی کارروائیاں اور فلسطینی شہریوں کو جبراً منتقل کرنا نسل کشی کے خدشات پیدا کر رہا ہے ۔ انسانی حقوق کے دفتر کے مطابق، پڑوسی علاقوں کی منظم تباہی اور انسانی امداد کی روک تھام کا مقصد دائمی جغرافیائی تبدیلی ہو سکتا ہے ۔ جبری منتقلی مستقل بے دخلی کا سبب بن سکتی ہیں، جس سے علاقے میں آبادیاتی توازن بدلنے کے خطرات ہیں۔ اقوام متحدہ نے عالمی برادری سے فوری توجہ اور اقدامات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ انسانی بحران کو بڑھنے سے روکا جا سکے ۔اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا کہ غزہ کی تعمیر نو تب تک نہیں ہوگی جب تک حماس کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور نہیں کیا جاتا۔ نیتن یاہو نے یہ اعلان واشنگٹن میں "بورڈ آف پیس"کے پہلے اجلاس کے دوران ٹیلی ویژن تقریر میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کے ساتھ اتفاق ہو گیا ہے کہ غزہ میں امن قائم ہونے اور حماس کی فوجی طاقت ختم ہونے کے بعد ہی وہاں کی تعمیر نو ممکن ہوگی۔