امریکا اور ایران فوجی تصادم کی طرف بڑھنے لگے
اسرائیل کی امریکا کیساتھ مشترکہ کارروائی کی منصوبہ بندی،جوہری پروگرام پر عالمی طاقتوں کے سامنے نہیں جھکیں گے :ایرانی صدر ایران کا امریکی تجاویز کا لفافہ کھولنے سے بھی انکار، طلبا کے پھر مظاہرے ،سربیا ، سویڈن کی اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کی ہدایت
واشنگٹن (نیوز ایجنسیاں )تہران کے جوہری پروگرام پر جاری تعطل کے بعد امریکا اور ایران تیزی سے ممکنہ فوجی تصادم کی طرف بڑھ رہے ہیں جبکہ سفارتی حل کی امیدیں کمزور پڑتی جا رہی ہیں۔برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق خلیجی ممالک اور اسرائیل،جو برسوں سے ایران کو اپنا بڑا خطرہ قرار دیتے آئے ہیں، اب سمجھتے ہیں کہ کسی تصفیے کے بجائے تصادم کا امکان کہیں زیادہ بڑھ چکا ہے ۔ اسرائیلی حکومت بھی امریکا کے ساتھ ممکنہ مشترکہ کارروائی کی منصوبہ بندی کر رہی ہے ، اگرچہ ابھی اس سلسلے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔یہ گزشتہ ایک سال کے اندر امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف دوسری ممکنہ کارروائی ہو گی۔ دو اسرائیلی حکام نے رائٹرز کو بتایا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اختلافات اتنے گہرے ہیں کہ انہیں حل کرنا ممکن نہیں رہا اور فوجی کشیدگی کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔
کچھ علاقائی حکام کا خیال ہے کہ ایران امریکی دباؤ کو کم سمجھ کر خطرناک غلطی کر رہا ہے ، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے ہی فوجی دباؤ کے جال میں پھنس چکے ہیں۔ سابق امریکی سفارتکار ایلن آئر کے مطابق دونوں ممالک ‘اپنی اپنی ریڈ لائنز پر ڈٹے ہوئے ہیں’ اور اس وقت کوئی پیش رفت ممکن دکھائی نہیں دیتی۔دو راؤنڈز میں ہونے والے مذاکرات بھی یورینیم افزودگی، میزائل پروگرام اور پابندیوں میں نرمی جیسے بنیادی معاملات پر کھٹائی میں پڑ گئے ہیں۔ عمانی ثالثوں کے ذریعے بھیجے گئے امریکی تجاویز پر مبنی لفافے کو ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کھولنے سے بھی انکار کر دیا۔ خطے میں بڑھتی کشیدگی کے پیش نظر سربیا اور سویڈن نے ایران میں موجود اپنے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ وہاں سے نکل جائیں ۔ دریں اثنا ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ان کا ملک امریکا کے ساتھ جوہری مذاکرات کے دوران عالمی طاقتوں کے دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا۔
مسعود پزشکیان نے قوم سے خطاب میں کہا کہ عالمی طاقتیں ہمیں اپنا سر جھکانے پر مجبور کرنے کیلئے کمر بستہ ہیں لیکن ان تمام مسائل کے باوجود ہم اپنا سر نہیں جھکائیں گے ۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا جوہری معاملے کا واحد حل سفارتی مذاکرات اور سفارتی حل تک پہنچنا ہے ، لیکن اگر کسی معاہدے تک نہ پہنچ سکے تو ایران اپنے دفاع میں ضروری اقدامات کرنے کے لیے تیار ہے ۔انہوں نے کہا دو سے تین روز میں ممکنہ جوہری معاہدے کا ابتدائی مسودہ تیار کر لیں گے ، منظوری ملنے پر یہ دستاویز امریکی خصوصی ایلچی کے حوالے کر دی جائے گی۔ مذاکرات میں جوہری افزودگی روکنے کی پیشکش کی نہ ہی امریکا نے ایسا کوئی مطالبہ کیا، دونوں ممالک کے مذاکرات کار تیز رفتار معاہدے پر کام کر رہے ہیں۔
مزید برآں ایرانی طلبا نے حالیہ مظاہروں میں مارے جانے والوں کی یاد میں ہونے والی ریلیوں کے دوران حکومت مخالف نعرے لگائے اور اس دوران ایران کی مذہبی قیادت کے خلاف احتجاج کرنے والے گروہوں کا سامنا حکومت کے حامی گروہوں سے بھی ہوا،طلبا نے تہران کی بہشتی یونیورسٹی کی فیکلٹی آف سائیکالوجی اینڈ ایجوکیشنل سائنسز میں دھرنا دینے کا اعلان کیا،تہران کی امیرکبیر یونیورسٹی میں ایک ریلی نکالی گئی جبکہ شریف یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کے کیمپس میں طلبا کا اجتماع پُرتشدد ہو گیا،انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق ایران میں حالیہ احتجاجی مظاہروں سے منسلک کم از کم 30 افراد کو سزائے موت کا سامنا ہے ۔ آٹھ مقدمات میں سزائے موت سنائی جا چکی ہے ، جبکہ باقی 22 مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔