جاپان :مصنوعی ذہانت سے چلنے والا روبوٹ راہب

 جاپان :مصنوعی ذہانت سے چلنے والا روبوٹ راہب

’’بدھاروائیڈ‘‘روبوٹ بدھ مت کتابوں پر تربیت یافتہ ، جواب دینے کی صلاحیت یہ روبوٹ راہبوں کی کمی کو پورا کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا:کیوٹو یونیورسٹی انسان کو خیالات کی اندھی پیروی نہیں کرنی چاہیے :اے آئی راہب کا صحافی کو جواب

 ٹوکیو (اے ایف پی)جاپانی محققین نے مصنوعی ذہانت سے چلنے والا ایک روبوٹ راہب دنیا کے سامنے پیش کیا ہے جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ یہ روحانی مشورے دے سکتا ہے اور شاید ایک دن انسانی راہبوں کی کمی کو پورا کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے ۔کیوٹو یونیورسٹی کے محققین کے مطابق بدھ مت کی مقدس کتابوں پر تربیت پانے والا یہ روبوٹ ان حساس سوالات کے جواب بھی دے سکتا ہے جنہیں لوگ عام طور پر دوسرے انسانوں سے شیئر کرنے میں ہچکچاتے ہیں۔ اسکا نام "بدھاروائیڈ" رکھا گیا ہے ۔ ذرائع ابلاغ کے سامنے اس روبوٹ کو سادہ سرمئی لباس میں متعارف کرایا، جس کا چہرہ تاحال تیار نہیں کیا گیا۔ اس نے دستانے پہنے ہاتھوں کو دعا کی صورت میں جوڑا، نامہ نگاروں کے سامنے چہل قدمی کی اور مختلف حرکات انجام دیں۔جب یہ کرسی پر بیٹھا تو ایک صحافی نے اپنا مسئلہ پیش کیا کہ وہ ضرورت سے زیادہ سوچتا اور فکرمند رہتا ہے ۔ خودکار راہب نے نرم اور پُرسکون آواز میں کہا بدھ مت یہ سکھاتا ہے کہ انسان کو اپنے خیالات کی اندھی پیروی نہیں کرنی چاہیے اور نہ ہی کسی معاملے میں جلد بازی سے کام لینا چاہیے ۔ اس کا حل یہ ہے کہ ذہن کو سکون دو اور بے جا سوچوں کو خود پر مسلط نہ ہونے دو ۔جاپان میں آبادی کے سکڑنے اور تیزی سے بڑھتی عمر رسیدگی کے باعث افرادی قوت کا دباؤ بڑھ رہا ہے ، جس کے پیش نظر مستقبل میں انسان نما خودکار نظام بعض ذمہ داریاں سنبھال سکتے ہیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں