دبئی:سنسان ساحل، ہوٹلوں میں پھنسے سیاح
پریشان لوگ بے چینی سے واپسی کے منتظر ،سیر سپاٹا ڈراؤنے خواب میں تبدیل شہر سے بہت متاثر ، لیکن گزشتہ چند دنوں نے مجھے ہلا کر رکھ دیا:پرتگالی خاتون
دبئی (اے ایف پی) دبئی کے مصنوعی جزیرے پر خالی ساحل ایک عجیب منظر پیش کر رہے ہیں، جب کہ ہوٹلوں کی لابیاں بے چین اور پریشان سیاحوں سے بھری ہوئی ہیں جو واپسی کے کسی راستے کے منتظر ہیں۔امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد ایران کی جانب سے خلیجی ممالک پر ہفتے سے جاری حملوں کے باعث متحدہ عرب امارات نے اپنی فضائی حدود بند کر دی، جس سے وہ مسافر شدید متاثر ہوئے جو اسے خطے کی محفوظ ترین سیاحتی منزلوں میں سے ایک سمجھ کر آئے تھے ۔دبئی، جس نے 2025 میں تقریباً دو کروڑ سیاحوں کا استقبال کیا، اپنی شناخت سلامتی اور اپنے مصروف عالمی ہوائی اڈے کی بدولت بناتا رہا ہے ۔31 سالہ برطانوی مالیاتی پیشہ ور جیک کی (جنہوں نے اپنا خاندانی نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی)پیر کی پرواز منسوخ ہو گئی، اور اب وہ جمعرات کو روانگی کی امید لگائے ہوئے ہیں۔وہ اپنی حاملہ بیوی اور ننھے بچے کے ساتھ دی پام کے فیئرمونٹ ہوٹل میں مقیم تھے ، مگر ہفتے کی رات ان کی قیام گاہ خوفناک خواب بن گئی جب روکے گئے ایک میزائل کا ٹکڑا ان کی کھڑکی کے نیچے آ گرا۔۔
انہوں نے اے ایف پی کو بتایا:"ہم دسویں منزل سے بھاگتے ہوئے نیچے تہہ خانے میں چلے گئے … ہم بری طرح خوف زدہ تھے ۔"برطانیہ کی وزیرِ خارجہ یوویٹ کوپر نے بی بی سی کو بتایا کہ اس وقت تقریباً تین لاکھ برطانوی شہری خلیجی ممالک میں موجود ہیں، جن میں سیاح، مقیم افراد اور ٹرانزٹ مسافر شامل ہیں۔جرمنی نے بھی پیر کو اعلان کیا کہ وہ سعودی عرب اور عمان کے لیے سویلین طیارے بھیجے گا تاکہ مشرقِ وسطیٰ میں پھنسے سیاحوں کو نکالا جا سکے ۔دبئی میں گفتگو کرنے والے کئی افراد نے کہا کہ اگر صورتحال طول پکڑتی ہے تو وہ زمینی راستے سے ان ممالک تک جانے پر غور کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، "سب کہتے تھے کہ یہ سب سے محفوظ جگہ ہے اور یہاں کوئی لڑائی جھگڑا نہیں… لیکن میزائل دیکھنا بہت بڑا صدمہ ہے ۔"اماراتی حکام نے بارہا سیاحوں کو یقین دہانی کرائی ہے اور بتایا ہے کہ وہ 20,200 سے زائد مسافروں کے قیام کے اخراجات برداشت کر چکے ہیں۔تاہم یہ بحران دبئی کے سیاحتی شعبے - جو اس کی مجموعی قومی پیداوار کا تقریباً 13 فیصد ہے - اور اس کی بڑی احتیاط سے تعمیر کی گئی عالمی ساکھ پر دیرپا اثر ڈال سکتا ہے ۔56 سالہ پرتگالی ریٹائرڈ خاتون سوزانا المیڈا نے کہا کہ وہ شہر سے بہت متاثر ہوئی تھیں، لیکن گزشتہ چند دنوں نے انہیں ہلا کر رکھ دیا ہے ۔انہوں نے کہا،"جب ہم یہاں آئے تھے تو پہلے چند دنوں میں ہمیں دبئی سے اتنی محبت ہو گئی تھی کہ ہم اپارٹمنٹ خریدنے کا بھی سوچ رہے تھے ۔ اب نہیں۔"