لڑاکا طیاروں کی مسلسل تباہی،بھارتی فضائیہ کی کمزوریاں عیاں
فضائی طاقت کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیا گیا ایس یو 30آسام میں گر کر تباہ ہو گیا دونوں پائلٹس ہلاک، پائلٹ پوریش پاکستان کیخلاف مئی میں ناکام آپریشن کا حصہ تھا ایس یو 30 انڈین فضائی جنگی صلاحیت کی بنیاد مگربھارتی ہاتھوں میں ناکام ثابت ہو رہا گزشتہ 16 برس کے دوران1درجن سے زائد ایس یو30 طیارے حادثات کا شکار ہو ئے تکنیکی خرابی کی نشاندہی انڈین فضائیہ کیلئے مشکلات پیدا کر سکتی ہے :دفاعی تجزیہ کار
نئی دہلی (مانیٹرنگ نیوز )بھارتی فضائیہ کی کمزوریاں ایک بار پھر عیاں ہو گئیں جب اس کا ایک جدید ایس یو 30ایم کے آئی لڑاکا طیارہ آسام میں گر کر تباہ ہو گیا۔ یہ طیارہ جسے بھارت اپنی فضائی طاقت کی’’ ریڑھ کی ہڈی‘‘ قرار دیتا ہے ، جمعرات کی رات کاربی اینگلونگ کے مقام پر گر کر مکمل طور پر تباہ ہوا اور اس میں سوار دونوں پائلٹ موقع پر ہی ہلاک ہو گئے ۔برطانوی میڈیا کے مطابق ایک پائلٹ پوریش دراگکر مئی میں پاکستان کے خلاف ایک ناکام آپریشن کا حصہ تھے ، جہاں بھارتی فضائیہ کو شدید نقصان اٹھانا پڑا۔ ان کے والد رویندرا دراگکر نے بتایا کہ آپریشن کے دوران ان کا بیٹا 15 دن تک رابطے سے باہر رہا۔
’’ ایس یو 30ایم کے آئی‘‘ کو بھارتی فضائیہ کی جنگی صلاحیت کی بنیاد سمجھا جاتا ہے ، مگر یہ روسی ساخت کا طیارہ اب بھارتی ہاتھوں میں ناکام ثابت ہو رہا ہے ۔اعداد و شمار کے مطابق انڈین فضائیہ کے پاس کبھی ایسے 272 طیارے موجود تھے تاہم مسلسل مختلف حادثات کے باعث ان کی تعداد کم ہو کر تقریباً 260 رہ گئی ہے ۔ گزشتہ 15 سے 16 برس کے دوران ایک درجن سے زائد ایس یو30 طیارے حادثات کا شکار ہو چکے ہیں۔دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر تحقیقات میں کسی تکنیکی خرابی کی نشاندہی ہوتی ہے تو یہ انڈین فضائیہ کے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتی ہے کیونکہ اس وقت بھی اس کے جنگی سکواڈرن کی تعداد مطلوبہ سطح سے کم ہے ۔