مشرق وسطیٰ جنگ، ایرانی جزیرہ خارک پر قبضہ بھی زیرغوررہا

مشرق وسطیٰ جنگ، ایرانی جزیرہ خارک پر قبضہ بھی زیرغوررہا

جزیرہ ایرانی خام تیل کی برآمدات کا 90فیصد سنبھالتا ہے ، کارروائی کے فوری اثرات جزیرے کے گردامریکا، اسرائیل نے احتیاط سے قدم رکھا،شدید جوابی حملے کا امکان

پیرس (اے ایف پی)خارک جزیرہ، جو شمالی خلیج میں ایک کھردرا زمین کا ٹکڑا ہے ، ایران کی خام تیل کی تقریباً تمام برآمدات سنبھالتا ہے اور تجزیہ کاروں کے مطابق اسے  قبضے میں لینے کی کسی بھی کوشش سے تنازع میں شدید اضافہ ہوگا۔اب تک امریکا اور اسرائیل نے جزیرے کے گرد احتیاط سے قدم رکھا ہے ، لیکن ایک ایکسائیوس رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ کے عہدیداروں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے دوران خارک پر قبضہ کرنا بھی ایک آپشن کے طور پر زیر غور رہا ۔یہ جزیرہ، جو ایرانی سرزمین سے تقریباً 30 کلومیٹر (19 میل)دور واقع ہے ، جے پی مورگن کے ایک نوٹ کے مطابق ایران کی خام تیل کی برآمدات کا تقریباً 90 فیصد سنبھالتا ہے ۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس علاقے پر کوئی بھی کارروائی فوری اثرات مرتب کرے گی۔جے پی مورگن کے مطابق:"ایک براہ راست حملہ ایران کی خام تیل کی برآمدات کو فوری طور پر روک دے گا، اور اس کے نتیجے میں ہرمز کی تنگی یا خطے کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر شدید جوابی حملے کا امکان ہے ۔"

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں