مشرقِ وسطیٰ جنگ :امریکی کمپنی کے بم شیلٹرز کی مانگ بڑھ گئی

 مشرقِ وسطیٰ جنگ :امریکی کمپنی کے بم شیلٹرز کی مانگ بڑھ گئی

جدیدبم شیلٹرز کی قیمت پچیس ہزار ڈالر سے شروع ہو کر لاکھوں ڈالر تک پہنچ گئی خاص طور پر خلیجی ممالک کے شہری میزائل حملوں سے بچاؤ کیلئے شیلٹر خرید رہے شیلٹرز میں خوراک، پانی، توانائی اور رہائش کی مکمل سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں ایٹمی حملوں سے بچاؤ کیلئے شیلٹر زیر زمین 6 سے 10 فٹ گہرائی میں بنایا جاتاہے شیلٹر 4 افراد کو زیر زمین ایک ہفتے تک بم دھماکوں ، تابکاری سے محفوظ رکھ سکتا شیلٹرز میں ڈی کنٹامینیشن چیمبر، بند دروازے ،آلودگی سے بچاؤ کا خصوصی نظام موجود معروف شخصیات اینڈریو ٹیٹ ، یوٹیوبر مسٹر بیسٹ کا بم شیلٹر خریدنے کا اعتراف

 واشنگٹن (اے ایف پی)مشرقِ وسطیٰ میں جنگ شروع ہونے کے تقریباً دو ہفتے بعد، ٹیکساس میں رون ہبرڈ کی بم شیلٹر کمپنی کا فون مسلسل بج رہا ہے ۔غیر ملکی اور امریکی صارفین تیزی سے ان کے بم شیلٹر خرید رہے ہیں تاکہ ممکنہ فضائی حملوں، نیوکلیئر اثرات یا قیامت کے حالات میں پناہ حاصل کی جا سکے ۔امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں اور تہران کی جانب سے پورے خطے میں جوابی حملوں کے پیش نظربم شیلٹر کی طلب میں خاص طور پر خلیجی ممالک جیسے بحرین، قطر، کویت اور متحدہ عرب امارات کے صارفین کی طرف سے اضافہ ہوا ہے ۔63سالہ ہبرڈ نے بتایا کہ ڈیمانڈ بلند ترین سطح پر ہے ، جو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی ۔

ایک بنیادی بیک یارڈ بم شیلٹر جو چار افراد کو زیرِ زمین ایک ہفتے تک بم دھماکوں اور تابکاری سے محفوظ رکھ سکتا ہے ، اس کی قیمت تقریباً 25ہزار ڈالر (71لاکھ 25 ہزار پاکستانی روپے )ہے ۔زیادہ جدید ماڈلز، جو کئی سال تک قیام کے لیے بنائے جاتے ہیں، کی قیمت لاکھوں ڈالر تک ہو سکتی ہے ، یہ اس بات پر منحصر ہے کہ وہ کتنی خوراک، توانائی اور پانی سے لیس ہیں۔ہبرڈ نے کہا یہ اس بات پر منحصر ہے کہ وہ دنیا کے خاتمے یا آرمگیڈن کے لیے تیاری کر رہے ہیں، یا صرف بنیادی طور پر میزائل حملوں سے محفوظ رہنے کے لیے ، جیسا کہ زیادہ تر اسرائیلی حملوں میں ہوتا ہے ۔ہبرڈ نے بتایا کہ نیوکلیئرشیلٹر کے لیے صرف تین فٹ گہرائی کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ زمین اور اوپر کی کنکریٹ کی تہہ آپ کو گاما تابکاری سے بچاتی ہے

، تاہم وہ عام طور پر اسے چھ سے دس فٹ زیرِ زمین بنانے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ توپ خانے کے حملوں سے بھی تحفظ ممکن ہو۔شیلٹر میں مرکزی دروازہ ہوتا ہے جو مکمل طور پر بند ہو جاتا ہے اور ایک ڈی کنٹامینیشن چیمبر ہوتا ہے جہاں لوگ آلودہ ماحول میں رہنے کے بعد نہا سکتے ہیں۔بجٹ کے مطابق اندرونی حصہ ایک چھوٹے اپارٹمنٹ کی طرح ڈیزائن کیا جا سکتا ہے ، جس میں لیونگ روم، ٹی وی، بیڈروم، کچن، لانڈری ایریا اور باتھ روم شامل ہو سکتے ہیں۔ کچھ ماڈلز میں ہتھیاروں کے ذخیرے کا کمرہ بھی ہوتا ہے ۔یہ شیلٹر بجلی کے ذریعے چلنے والے نظام سے منسلک ہوتا ہے اور پانی کو ذخیرہ اور فلٹر بھی کر سکتا ہے ۔

اگر بجلی بند ہو جائے تو شیلٹر کا وینٹی لیشن سسٹم دستی ہینڈ کرینک کے ذریعے بھی چلایا جا سکتا ہے - بالکل ویسے ہی جیسے پرانی گاڑیوں میں ہوتا تھا۔ہبرڈ کی فیکٹری کے صحن میں تقریباً بیس بم شیلٹر موجود تھے جو سٹیل کے شپنگ کنٹینرز کی طرح نظر آ رہے تھے اور ملک بھر کے کلائنٹس کو بھیجنے کے لیے تیار تھے ۔ مزید چالیس آرڈرز پیداوار کے مرحلے میں تھے ۔ہبرڈ نے کہا توقع ہے کہ اگلے دو ماہ میں فروخت شاید پچھلے تین سال کی مجموعی فروخت سے زیادہ ہو جائے گی۔ لیکن مجھے شاید دو سے تین سال لگیں گے تمام شیلٹرز بنانے میں جو میں اگلے دو ماہ میں فروخت کروں گا۔ایٹلس اپنی ٹیکنالوجی کو بیرونِ ملک کمپنیوں کو بھی لائسنس دیتی ہے اور امریکاسے ماہرین کی ایک ٹیم بھیجتی ہے تاکہ تعمیراتی کام کی نگرانی کی جا سکے ۔اگرچہ ہبرڈ اپنے کلائنٹس کی فہرست خفیہ رکھتے ہیں، کچھ مشہور خریدار جیسے اینڈریو ٹیٹ اور یوٹیوبر و فلاحی شخصیت مسٹر بیسٹ نے عوامی طور پر اپنے بم شیلٹر خریدنے کا اعتراف کیا ہے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں