ریکوڈک منصوبے میں 1سال کی تاخیر :بیرک کمپنی

ریکوڈک منصوبے میں 1سال کی تاخیر :بیرک کمپنی

توسیعی مدت سے کمپنی کو ممکنہ خطرات کا بہتر اندازہ لگانے کا موقع ملے گا :ترجمان

ٹورنٹو (رائٹرز )کینیڈا کی کان کنی کی کمپنی بیرک مائننگ پاکستان میں واقع وسیع ریکوڈک تانبہ و سونا منصوبے کے جائزے میں توسیع کر رہی ہے اور بڑھتے ہوئے سلامتی  کے خدشات کے باعث ترقیاتی سرگرمیوں کی رفتار سست کر رہی ہے ، جو جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے پس منظر میں سامنے آئے ہیں۔کمپنی کے ترجمان نے جمعرات کو بتایا کہ اس عمل سے پہلے سے ظاہر کردہ مالی تخمینوں اور وقت کی حدود متاثر ہونے کا امکان ہے ۔ ریکوڈک منصوبہ، جو پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں واقع ہے ، دنیا کے سب سے بڑے غیر ترقی یافتہ تانبہ و سونا کے ذخائر میں شمار ہوتا ہے ۔کمپنی کا یہ فیصلہ 5 فروری کو اعلان کردہ ابتدائی جائزے کے نتائج کے بعد کیا گیا ۔کمپنی کے مطابق وہ اس منصوبے کا مزید جائزہ لے رہی ہے ، اس لیے اب اس کام میں تقریباً ایک سال کی مزید تاخیر ہو سکتی ہے ۔ اس کا مطلب ہے کہ منصوبہ پہلے کے مقابلے میں دیر سے مکمل ہوگا اور لاگت میں بھی تبدیلی ہوسکتی ہے ۔کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ پہلے حالات کو اچھی طرح سمجھنا چاہتی ہے تاکہ بعد میں بہتر منصوبہ بندی کے ساتھ کام جاری رکھا جا سکے ۔مزید یہ کہ اس توسیعی مدت سے کمپنی کو ممکنہ خطرات کا بہتر اندازہ لگانے اور منصوبے کی تکمیل کے لیے اپنی حکمتِ عملی کو مزید مؤثر بنانے کا موقع ملے گا۔

 

 

 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں