امریکا صرف ایک تہائی ایرانی میزائل تباہ کرنیکی تصدیق کرسکتا
ایک اور تہائی ذخیرے کی صورتحال غیر واضح کہ نقصان پہنچا یا بنکروں میں دفن ڈرون صلاحیت سے متعلق بھی اندازہ کچھ ایسا ہی ہے :امریکی انٹیلی جنس رپورٹ
واشنگٹن(رائٹرز)امریکی انٹیلی جنس سے واقف پانچ افراد کے مطابق، امریکا اس بات کا یقینی طور پر تعین صرف اتنا ہی کر سکا ہے کہ اس نے ایران کے وسیع میزائل ذخیرے کا تقریباً ایک تہائی حصہ تباہ کیا ہے ، جبکہ امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کو تقریباً ایک ماہ مکمل ہونے والا ہے ۔چار ذرائع کے مطابق، تقریباً ایک اور تہائی ذخیرے کی صورتحال غیر واضح ہے ، تاہم بمباری کے نتیجے میں ان میزائلوں کو ممکنہ طور پر نقصان پہنچا، تباہ کیا گیا یا زیرِ زمین سرنگوں اور بنکروں میں دفن کر دیا گیا۔ معلومات کی حساس نوعیت کے باعث ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی۔ایک ذریعے نے بتایا کہ ایران کی ڈرون صلاحیت کے حوالے سے بھی انٹیلی جنس کا اندازہ کچھ ایسا ہی ہے ، جس میں تقریباً ایک تہائی تباہ ہونے کے بارے میں کسی حد تک یقین موجود ہے ۔یہ جائزہ، جو اس سے قبل رپورٹ نہیں کیا گیا تھا، ظاہر کرتا ہے کہ اگرچہ ایران کے بیشتر میزائل یا تو تباہ ہو چکے ہیں یا قابلِ رسائی نہیں رہے ، تاہم تہران کے پاس اب بھی قابلِ ذکر میزائل ذخیرہ موجود ہے اور لڑائی کے خاتمے کے بعد وہ کچھ دفن شدہ یا نقصان زدہ میزائلوں کو بحال کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔یہ انٹیلی جنس رپورٹ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جمعرات کو دئیے گئے اس بیان سے متصادم ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران کے پاس \"بہت کم راکٹ باقی رہ گئے ہیں\"۔ انہوں نے مستقبل میں آبنائے ہرمز کے تحفظ کے لیے ممکنہ امریکی کارروائیوں کے حوالے سے ایرانی میزائلوں اور ڈرونز سے لاحق خطرے کو بھی تسلیم کیا۔