اسرائیلی پارلیمنٹ میں فلسطینیوں کو سزائے موت دینے کا قانون منظور
قانون کے حق میں62 ووٹ ،48ارکان مخالف،یورپی ممالک کی شدید تنقید،قانون اسرائیلی سپریم کورٹ میں چیلنج اسرائیل کی قتل کرنیکی پالیسی ظاہر ہو گئی :حماس ،فلسطینیوں کے قتل کو قانونی حیثیت دینے کی کوشش :فلسطینی اتھارٹی
تل ابیب(اے ایف پی)اسرائیل کی پارلیمنٹ (کنیسٹ) نے ایک متنازعہ قانون منظور کیا ہے جو فلسطینیوں کو دہشتگردی کے الزامات میں موت کی سزا دینے کی اجازت دیتا ہے ۔ قانون کو سخت تنقید کا سامنا ہے اور یورپی ممالک اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسے امتیازی قرار دیا ۔ وزیراعظم نیتن یاہو سمیت 62 قانون ساز وں نے حق میں ووٹ دیا، جبکہ 48 نے مخالفت کی، ایک رکن نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا ، باقی غیر حاضر تھے ۔ قانون کے مطابق مغربی کنارے کے وہ فلسطینی جو اسرائیلی شہریوں کے قتل کے جرم میں سزا یافتہ ہوں گے انہیں پھانسی دی جائے گی۔اس کے ساتھ ساتھ یہ قانون اسرائیلی عدالتوں کو یہ اختیار بھی دیتا ہے کہ وہ اسرائیلی شہریوں کے لیے بھی سزائے موت یا عمر قید میں سے کسی ایک سزا کا فیصلہ کر سکیں، تاہم یہ قانون ماضی پر لاگو نہیں ہوگا بلکہ صرف آئندہ کیسز پر نافذ ہوگا۔دوسری جانب اسرائیل کی معروف انسانی حقوق تنظیم نے سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کی ہے ، جس میں نئے منظور ہونے والے قانون کو چیلنج کیا گیا ہے جو فلسطینیوں کو موت کی سزا دینے کی اجازت دیتا ہے ۔تنظیم نے کہا کہ انہوں نے عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ دہشت گردوں کے لیے سزائے موت کا قانون منسوخ کیا جائے۔
، کیونکہ یہ انسانی حقوق کے اصولوں کے خلاف ہے ۔ حماس نے کہا ہے کہ اسرائیل کی پارلیمنٹ کی طرف سے فلسطینیوں کو سزائے موت دینے والے بل کی منظوری اس کے قتل اور دہشت گردی کے طرز عمل کی عکاسی کرتی ہے ۔ حماس نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ بل قبضے کی خونریز فطرت اور قتل و دہشت گردی کی پالیسی کو ظاہر کرتا ہے ۔ حماس کا موقف ہے کہ یہ اقدام فلسطینی عوام کے خلاف جارحیت اور انسداد انسانی حقوق کی پالیسی کا حصہ ہے ۔ بل کی منظوری کے بعد فلسطینی علاقوں میں تشویش اور ردعمل بڑھ گیا ہے ۔ فلسطینی اتھارٹی نے اسرائیل کی پارلیمنٹ کی جانب سے منظور کیے گئے قانون کی شدید مذمت کی، جو فلسطینیوں کو موت کی سزا دینے کی اجازت دیتا ہے ۔ فلسطینی وزارت خارجہ نے ایک پیغام میں کہا کہ اسرائیل کو فلسطینی زمین پر کوئی حاکمیت حاصل نہیں اور یہ قانون ایک بار پھر اسرائیلی نوآبادیاتی نظام کی حقیقت ظاہر کرتا ہے ، جو قانونی ڈھانچے کے تحت غیر عدالتی قتل کو جائز قرار دینے کی کوشش کرتا ہے ۔ فلسطینی قیادت نے قانون کو خطرناک اشتعال انگیزی قرار دیا۔امریکی نیوز چینل سی این این کی ٹیم پر حملے کے بعد اسرائیلی آرمی چیف نے مغربی کنارے سے پوری فوجی بٹالین کو واپس بلا لیا ۔اسرائیلی فوجیوں نے مغربی کنارے میں امریکی نیوز چینل سی این این کی ٹیم کو حراست میں لیا تھا۔ سی این این کی ٹیم اسرائیلی قابضین کی جانب سے فلسطینیوں کی زمین پر زبردستی قبضے کے بعد کوریج میں مصروف تھی۔صحافیوں کے مطابق اسرائیلی فوجیوں نے ان پر تشدد کیا اور ایک امریکی نیوز چینل کے فوٹو جرنلسٹ کا گلا دبایا اور اس کا کیمرا توڑ دیا۔فوج نے کہا کہ بٹالین اب تربیت کے بعد دوبارہ تعینات کی جائے گی۔ مغربی کنارے میں دو الگ الگ واقعات میں اسرائیلی فورسز نے دو فلسطینیوں کو شہید کر دیا۔ جنوبی دورہ کے قریب ایک نوجوان حملہ آور کو فوجیوں کی موجودگی میں گولی مار کر شہید کیا گیا، جبکہ شمالی تلکرم کے قریب ایک شخص کی گاڑی فوجیوں کی جانب تیز رفتاری سے بڑھنے پر اسے "نیوٹرلائز" کر دیا گیا۔ فلسطینی وزارت صحت نے شہدا کی شناخت 22 سالہ رمزی العواودہ اور 31 سالہ عبدالرحمن ابو الرب کے طور پر کی ہے ۔