جون تک جنگ جاری رہی تو تیل کی قیمت 200ڈالر فی بیرل

جون تک جنگ جاری رہی تو تیل کی قیمت 200ڈالر فی بیرل

صورتحال 1970 کی دہائی کے تیل کے بحران بھی سنگین ،اپریل، مارچ سے زیادہ بدتر ہوگا

 لندن (اے ایف پی)جمعرات کے روز ایک بار پھر تیل کی قیمت 110 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر جانے کے بعد، کیا یہ ممکن ہے کہ قیمتیں 150 ڈالر سے بھی آگے نئے ریکارڈ قائم کریں، جیسا کہ بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے ؟امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرقِ وسطٰی کی  جنگ کے حوالے سے حالیہ سخت اور جارحانہ بیانات نے خام تیل کی مسلسل بلند قیمتوں اور ان کے اثرات سے نمٹنے کے محدود وسائل کے بارے میں خدشات کو دوبارہ بڑھا دیا ہے ۔ کیا تیل 200 ڈالر تک پہنچ سکتا ہے ؟،28 فروری کو امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان تنازع شروع ہونے کے بعد سے عالمی معیار کے مطابق تیل کی قیمتیں 50 فیصد سے زیادہ بڑھ چکی ہیں۔ اس اضافے کی بڑی وجہ آبنائے ہرمز کی بندش ہے ، جہاں سے عام حالات میں دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کے برابر خام تیل گزرتا ہے ، اور اب زیادہ تر آئل ٹینکرز کے لیے یہ راستہ بند ہے ۔

فرانسیسی بینک سوسیئتے جینیرال کے مطابق اگر جنگ طویل ہو گئی تو 150 ڈالر فی بیرل کی قیمت قابلِ یقین ہے ، جبکہ زیادہ تر تجزیہ کاروں کا اندازہ ہے کہ تیل کی قیمت 130 سے 140 ڈالر کے درمیان پہنچ سکتی ہے ۔ آسٹریلوی بینک میکوری نے پیشگوئی کی ہے کہ اگر جون تک جنگ جاری رہی تو خام تیل کی قیمت 200 ڈالر تک پہنچ سکتی ہے اور اس اندازے میں اس بات کو شامل نہیں کیا گیا کہ اگر آبنائے ہرمز کی بندش کے ساتھ ساتھ خارگ جزیرے پر حملہ بھی ہو جائے ، جہاں سے ایران کی زیادہ تر خام تیل کی پیداوار گزرتی ہے ،یا ایک اور اہم تجارتی راستے ، آبنائے باب المندب میں خلل پیدا ہو جائے ۔بین الاقوامی معیار کے مطابق برینٹ نارتھ سی خام تیل اور امریکا کا اہم معاہدہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ، دونوں کی قیمتیں 2008 کے عالمی مالیاتی بحران کے بعد 147 ڈالر فی بیرل سے اوپر کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی تھیں، تاہم بعد میں کووڈ وبا کے دوران یہ قیمتیں گر گئیں۔تقریباً 110 ڈالر فی بیرل کی سطح پر ہی صارفین پہلے سے شدید مالی دباؤ کا شکار ہیں، کیونکہ دنیا بھر میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔انٹرنیشنل انرجی ایجنسی آئی اے ای اے کے سربراہ فاطح بیرول نے بدھ کو شائع ہونے والے ایک پوڈکاسٹ میں کہا کہ یہ تنازع پہلے ہی 1970 کی دہائی کے تیل کے بحران اور 2022 میں روس کے یوکرین پر حملے کے بعد پیدا ہونے والے بحران سے بھی زیادہ سنگین صورتحال پیدا کر چکا ہے ۔

انہوں نے مزید کہا کہ اپریل، مارچ کے مقابلے میں کہیں زیادہ بدتر ہوگا۔ایجنسی کے مطابق مشرقِ وسطٰی کی جنگ کے آغاز کے بعد سے تقریباً 40 اہم توانائی کے بنیادی ڈھانچوں کو نقصان پہنچا ہے ، اور ہر ایک کی مرمت میں وقت درکار ہوگا۔ حل؟ ان ممالک کے لیے جو آبنائے ہرمز کے ذریعے گزرنے والے تیل اور گیس پر انحصار کرتے ہیں خصوصاً ایشیا اور یورپ میں واقع ممالک میں صورتحال خاصی مایوس کن دکھائی دیتی ہے ۔توانائی سے متعلق تھنک ٹینک ایمبر کے مطابق دنیا کی تین چوتھائی آبادی ایسے ممالک میں رہتی ہے جو فوسل فیولز پر انحصار کرتے ہیں۔حکومتوں کے پاس کاروبار اور گھریلو صارفین کی مدد کے لیے بجٹ میں گنجائش کم ہوتی جا رہی ہے ، جبکہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ آئی ایم ایف کی حالیہ پیشگوئیوں کے مطابق 2029 تک عوامی قرضہ مجموعی قومی پیداوار کے 100 فیصد تک پہنچ سکتا ہے ، جو دوسری جنگِ عظیم کے بعد بلند ترین سطح ہوگی۔دوسری جانب سیاسی رہنماؤں اور معاشی حلقوں میں یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ فوسل فیولز کا استعمال مرحلہ وار تیزی سے ختم کیا جائے ۔آکسفورڈ یونیورسٹی کی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق برطانیہ میں مکمل طور پر کاربن سے پاک توانائی نظام اپنانے سے ایک اوسط گھرانہ سالانہ تقریباً 441 پاؤنڈ (509 ڈالر) کی بچت کر سکتا ہے ، جبکہ شمالی سمندر کے تمام تیل و گیس کے ذخائر استعمال کرنے کی صورت میں یہ بچت زیادہ سے زیادہ 82 پاؤنڈ تک ہی ہوگی۔

 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں