ٹرمپ کی پریشانی بڑھنے لگی ،کابینہ میں بڑی تبدیلی زیر غور
ڈائریکٹر انٹیلی جنس تلسی گیبارڈ اور وزیرِ تجارت ہاورڈ لوٹنک کی برطرفی کا خطرہ
واشنگٹن (رائٹرز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس ہفتے اٹارنی جنرل پام بونڈی کی برطرفی کے بعد کابینہ میں بڑے پیمانے پر تبدیلی پر غور کر رہے ہیں کیونکہ ایران کے ساتھ جنگ کے سیاسی اثرات سے وہ روز بروز زیادہ فکرمند اور مایوس ہو رہے ہیں، یہ بات پانچ ایسے افراد نے بتائی جو وائٹ ہاؤس کے اندرونی معاملات سے واقف ہیں ۔ممکنہ ردوبدل وائٹ ہاؤس کیلئے ایک نئی شروعات ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ اسے ایک مشکل سیاسی دور کا سامنا ہے ۔ پانچ ہفتوں سے جاری جنگ نے پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے ، ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی آئی ہے اور نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل ریپبلکنز کیلئے ممکنہ نتائج کے بارے میں تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔
ذرائع نے کسی ایک کابینہ کے رکن کو قریبی مدت میں نوکری سے جانے کیلئے یقینی قرار نہیں دیا لیکن انہوں نے کہا کہ متعدد عہدیدار کسی نہ کسی حد تک خطرے میں ہیں۔کچھ ذرائع نے کہا کہ ٹرمپ کی قومی انٹیلی جنس کی ڈائریکٹر تلسی گیبارڈ اور وزیرِ تجارت ہاورڈ لوٹنک ان افراد میں شامل ہیں جو ممکنہ طور پر برطرفی کے خطرے سے دوچار ہیں ۔ایک سینئر وائٹ ہاؤس اہلکار نے کہا کہ حالیہ مہینوں میں ٹرمپ نے تلسی گیبارڈ سے ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ ایک اور ذرائع جو اس معاملے سے براہِ راست واقف ہیں نے بتایا کہ ٹرمپ نے اپنے اتحادیوں سے انٹیلی جنس چیف کے ممکنہ متبادل کے بارے میں رائے بھی پوچھی تھی۔