آرٹیمسIIٹیم کا چاند کی پچھلی سطح کا تاریخی مشاہدہ ،جذباتی لمحات

آرٹیمسIIٹیم کا چاند کی پچھلی سطح کا تاریخی مشاہدہ ،جذباتی لمحات

ٹیم نے اپالو 13 کا ریکارڈ توڑ کر 2لاکھ52ہزار 757 میل کی دوری طے کر لی خلانوردوں نے حیرت انگیز جیومیٹری اور غیر متوقع سبز و بھورے رنگ دیکھے ایک ایسا جزیرہ دیکھ رہے ہیں جو مکمل تاریکی میں گھرا ہوا ہے :خلانوردوکٹر گلور ویزمین اور کرسٹینا کوچ آنسو پونچھتے دکھائی دئیے ،ایک دوسرے کو گلے لگایا آرٹیمس II کمانڈر ریڈ ویزمین کا انسانی خلا کی تحقیق کرنیوالوں کو خراجِ تحسین

ہیوسٹن(دنیا مانیٹرنگ)امریکاکے خلانورد ریڈ ویزمین، وکٹر گلور، کرسٹینا کوچ اور کینیڈا کے جیریمی ہینسن نے چاند کی پچھلی سطح کے تاریخی فلائی بائی کا آغاز کر دیا ہے ، جو پہلی بار انسانی آنکھوں سے دیکھی گئی۔6 گھنٹے کے اس مشن میں ٹیم نے اپالو 13 کا ریکارڈ توڑ کر 2 لاکھ52ہزار 757 میل کی دوری طے کی، جو 1970 میں اپالو 13 کے 2لاکھ 48ہزار 655میل کے ریکارڈ سے زیادہ ہے ۔خلانوردوں نے چاند کی پچھلی سطح پر حیرت انگیز جیومیٹری، گھومتے ہوئے نمونے ، اور غیر متوقع سبز و بھورے رنگ دیکھے ۔ کوخ کے مطابق نئے گڑھے چھوٹے سوراخ کی طرح روشن ہیں، جنہیں انہوں نے "لیمپ شیڈ میں چھوٹے پن پرچ سوراخ" قرار دیا۔امریکی خلانورد وکٹر گلور نے مشن کنٹرول کو بتایا کہ وہ ایک ایسا جزیرہ دیکھ رہے ہیں جو مکمل طور پر تاریکی میں گھرا ہوا ہے ۔

گلور نے شمال کی جانب دوہرے گڑھوں کو دیکھا جو برف کے آدمی کی طرح نظر آتے ہیں، جبکہ جنوبی کنارے پر ایک گہرا سوراخ تھا، جسے انہوں نے سیاہ اور روشن دیوار والا قرار دیا۔ایک بڑے اثر کے گڑھے کے اندرونی اور بیرونی حلقوں میں نمایاں فرق تھا، جسے گلور نے کنارے سے پہلے خشک ہونے والے گیلے دھبے سے تشبیہ دی۔ کچھ پہاڑی نما خصوصیات کو برف یا چاک کی چادر جیسا بتایا۔آرٹیمس II کے کمانڈر ریڈ ویزمین نے اپنی دو بیٹیوں کی طرف ہاتھ دل کی شکل میں بنا کر محبت کا پیغام بھیجا۔مزید برآں، کیبن سے انہوں نے مشن کنٹرول کو بتایا کہ یہ ریکارڈ ان تمام لوگوں کی قربانیوں کے احترام میں ہے جنہوں نے انسانی خلاء کی تحقیق میں کام کیا۔کینیڈین خلانورد جرمی ہینسن نے دو نئے گڑھوں کے نام بھی تجویز کیے ۔ ایک کو "کارول" اور دوسرے کو "انٹیگریٹی" کہا، جو اوریون کیپسول کے نام پر رکھا گیا۔اس دوران جذباتی لمحات بھی دیکھے گئے ،ویزمین اور کرسٹینا کوچ آنسو پونچھتے دکھائی دئیے اور خلانوردوں نے ایک دوسرے کو گلے لگایا،جس کے بعد ہیوسٹن میں مشن کنٹرول خاموش ہو گیا۔خلانورد چاند کی سطح سے صرف 4ہزار70 میل فاصلے پر تھے اور مشن کے دوران ایک نایاب شمسی گرہن کا مشاہدہ بھی کریں گے ۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں