پاک فضائیہ کے دستے کا سعودی عرب جانا اہم پیش رفت

پاک فضائیہ کے دستے کا سعودی عرب جانا اہم پیش رفت

ایران کو سعودی عرب کے توانائی ڈھانچے پر ممکنہ حملے سے پہلے سوچنا ہوگا دیگر خلیجی ممالک بھی پاکستان سے اسی نوعیت کی دفاعی مدد حاصل کر سکتے ہیں

ہانگ کانگ (مانیٹرنگ نیوز )تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کی جانب سے اپنی فضائیہ کا ایک دستہ سعودی عرب کے خلیجی ساحل پر ایک اڈے پر تعینات کرنا خطے کی سکیورٹی صورتحال میں اہم پیش رفت ہے ، جو ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی رابطوں کے دوران سامنے آیا ہے ۔ساؤتھ چائنہ مارننگ پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق یہ تعیناتی اگرچہ مکمل طور پر دفاعی نوعیت کی ہے ، لیکن اس کے باوجود اس نے خطے میں طاقت کے توازن اور ممکنہ کشیدگی کے توازن کو متاثر کیا ہے ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے ایران کو سعودی عرب کے اہم توانائی ڈھانچے پر کسی بھی ممکنہ حملے کے بارے میں اپنی حکمتِ عملی پر دوبارہ غور کرنا پڑ سکتا ہے ، کیونکہ کسی نئی کشیدگی کی صورت میں اسے اس بات کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا کہ پاکستانی لڑاکا طیارے بھی اس صورتحال کا حصہ ہو سکتے ہیں۔جنوبی ایشیا کے سکیورٹی محقق محمد فیصل کے مطابق پاکستان کی موجودگی ایران کیلئے فیصلوں کو مزید پیچیدہ بنا دے گی، کیونکہ کسی بھی کارروائی کی صورت میں تہران کو یہ بھی حساب رکھنا ہوگا

کہ اس سے پاکستانی طیارے بھی متاثر ہو سکتے ہیں، جو ایک سفارتی ثالثی کرنے والا ملک ہے ۔تجزیہ کاروں کے مطابق تہران نہیں چاہے گا کہ وہ اسلام آباد کو ناراض کرے ۔اس کے باوجود تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس بات کا امکان بہت کم ہے کہ ایران کو خلیج کے اوپر پاکستانی فضائیہ کے طیاروں کی پرواز سے پہلے آگاہ کیا گیا ہو۔مبصرین، جو تجارتی ذرائع کی مدد سے سوشل میڈیا پر طیاروں کی نقل و حرکت کو ٹریک کر رہے تھے ، کے مطابق جمعہ کے روز شمالی خلیج کے اوپر تین پاکستانی سی-130 ٹرانسپورٹ طیارے اور دو آئیلِشِن IL-78 فضائی ایندھن بھرنے والے طیارے دیکھے گئے ۔ان کے مطابق کوئی لڑاکا طیارہ نظر نہیں آیا، کیونکہ اندازہ ہے کہ پائلٹس نے اپنے خودکار شناختی نظام (Automatic Identification System) کے ٹرانسپونڈرز بند کر رکھے تھے ۔ تاہم اسلام آباد نے ابھی تک اس تعیناتی پر کوئی باضابطہ تبصرہ نہیں کیا، اور نہ ہی اس فورس کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے ظاہر کی گئی ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان فضائیہ کی ممکنہ ذمہ داریاں سعودی عرب میں عسکری حکمتِ عملی کی منصوبہ بندی، مشترکہ مشقیں اور فضائی گشت (combat patrols) تک ہو سکتی ہیں، جو سعودی رائل ایئر فورس کے ساتھ مل کر انجام دی جائیں گی۔ابتدائی مرحلے میں اس مشن کا فوکس سعودی عرب کے مشرقی صوبے اور تیل کی تنصیبات اور توانائی کے ڈھانچے کی فضائی حفاظت کو مضبوط بنانا بتایا جا رہا ہے ۔ماہرین کے مطابق اس تعیناتی کو خلیجی عرب ریاستیں ایک ٹیسٹ کیس کے طور پر دیکھ رہی ہیں

، کیونکہ وہ امریکا پر مکمل انحصار کے بجائے اپنے دفاعی اتحادوں کو متنوع بنانے پر غور کر رہی ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطے میں امریکی و اسرائیلی کارروائیوں کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے ۔رپورٹ کے مطابق دو ہفتے کی جنگ بندی کے بعد بھی خلیجی ریاستوں نے ایران کے ڈرون اور میزائل حملوں کا سامنا کیا، جن کا زیادہ تر ہدف تیل، گیس اور پیٹروکیمیکل تنصیبات تھیں-وہی شعبے جن پر ان کی معیشت کا انحصار ہے ۔تجزیہ کاروں نے بتایا کہ پاکستان کا سعودی عرب کے معاملے میں بطور سکیورٹی معاون کردار دیگر خلیج تعاون کونسل کے ممالک کے لیے ایک ایسا ماڈل بن سکتا ہے جسے وہ بھی اختیار کر سکتے ہیں۔ یہ امکان پیدا ہوتا ہے کہ ایران کے خطرے کی زد میں آنے والے دیگر خلیجی ممالک بھی پاکستان سے اسی نوعیت کی دفاعی مدد حاصل کر سکتے ہیں۔ان کے مطابق ممکن ہے کہ بحرین اس حکمتِ عملی کا حصہ بن سکے ، تاہم اس بارے میں ابھی صورتحال واضح نہیں ہے ۔کویت کے کچھ تجزیہ کار بھی سوشل میڈیا پر پاکستان کے ساتھ ممکنہ دفاعی معاہدے کے فوائد اور نقصانات پر بحث کر رہے ہیں۔

 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں