یوکرین کیلئے 105ارب ڈالرقرض ،روس پرنئی پابندیاں عائد

یوکرین کیلئے 105ارب ڈالرقرض ،روس پرنئی پابندیاں عائد

یورپی یونین کے 27رکن ملکوں نے قرض اور پابندیوں کی حتمی منظوری دی تعطل ختم ہو گیا، روس دباؤ کا شکار ، یوکرین کو ایک بڑا سہارا مل رہا :کاجاکالاس

برسلز(اے ایف پی)یورپی یونین نے یوکرین کیلئے 90 ارب یورو (105ارب ڈالر)کے قرضے اور روس کے خلاف نئی پابندیوں کے پیکیج کی حتمی منظوری دے دی جو طویل تعطل کے بعد کیف کیلئے ایک بڑی پیش رفت ہے ۔یہ اقدامات گزشتہ روز اس وقت منظور کئے گئے جب ہنگری اور سلوواکیہ نے اپنے اعتراضات واپس لے لئے کیونکہ یوکرین نے خراب پائپ لائن کی مرمت کے بعد تیل کی ترسیل دوبارہ شروع کر دی تھی۔یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کالاس نے سوشل میڈیا پر لکھاکہ تعطل ختم ہو گیا، روس کی جنگی معیشت بڑھتے ہوئے دباؤ کا شکار ہے جبکہ یوکرین کو ایک بڑا سہارا مل رہا ہے ۔منظوری ملنے کے بعد توقع ہے کہ برسلز آئندہ مہینوں میں ان فنڈز کی ادائیگی شروع کر دے گا، جن کی یوکرین کو روسی حملے کے چار سال بعد اپنے بجٹ کے بڑے خسارے پورے کرنے کیلئے اشد ضرورت ہے ۔ یورپی یونین کے 27 رکن ممالک نے ماسکو کے خلاف نئی پابندیوں کے پیکیج کی بھی منظوری دے دی، جس میں روس کے توانائی، بینکاری اور تجارتی شعبوں کو نشانہ بنایا گیا ہے ۔ان اقدامات میں ماسکو کی جانب سے تیل کی برآمدات پر عائد پابندیوں سے بچنے کیلئے استعمال ہونے والے پرانے ٹینکرز کے مبینہ شیڈو فلیٹ کے خلاف مزید سخت کارروائی اور روسی کرپٹو کرنسی تاجروں پر پابندیاں شامل ہونے کی توقع ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں