اسرائیل اور لبنان کا جنگ بندی میں مزید 3ہفتوں کی توسیع کا اعلان
اسرائیلی،لبنانی حکام سے ملاقات ،ملکر لبنان کو حزب اللہ سے بچائیں گے :ٹرمپ حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کیلئے تیار، اسرائیلی افواج کا انخلا ضروری :لبنان حکومت
بیروت(اے ایف پی،مانیٹرنگ ڈیسک) اسرائیل اور لبنان نے اپنی غیر مستحکم جنگ بندی میں مزید تین ہفتوں کی توسیع کر دی جبکہ ایران کے وزیر خارجہ پاکستان میں حکام سے ملاقاتوں کی تیاری کر رہے ہیں، پاکستان وسیع تر مشرقِ وسطٰی جنگ کے خاتمے کیلئے ثالثی کی کوششوں میں مصروف ہے ۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا سوشل میڈیا پر ایک پیغام میں کہنا تھا کہ یہ پیشرفت اوول آفس میں میری اسرائیلی اور لبنانی حکام کے درمیان ہونے والی ایک ملاقات کے بعد سامنے آئی ہے ،اس ملاقات میں نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیرِ خارجہ مارکو روبیو بھی شریک تھے ۔ اپنے اعلان میں ٹرمپ نے کہا کہ یہ ملاقات انتہائی کامیاب رہی،اب امریکالبنان کے ساتھ مل کر کام کرے گاتاکہ وہ خود کو حزب اللہ سے محفوظ رکھ سکے ، ایران کو حزب اللہ کی فنڈنگ روکنا ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ وہ مستقبل میں اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو اور لبنانی صدر جوزف عون کی میزبانی کے منتظر ہیں جوآئندہ تین ہفتوں میں متوقع ہے ۔لبنان کے وزیر اطلاعات پال مورکوس نے کہا ہے کہ حکومت ایران کے حمایت یافتہ حزب اللہ گروپ کو غیر مسلح کرنے کیلئے فوج کی تعیناتی میں اہم اقدامات کرنے کے لئے تیار ہے تاہم اس کیلئے اسرائیلی افواج کا ملک سے انخلا ضروری ہو گا۔
انہوں نے بی بی سی کو انٹرویومیں بتایا کہ تین ہفتوں کی جنگ بندی میں توسیع لبنانی حکومت کی درخواست پر کی گئی اور اس میں بنیادی مطالبہ لبنان کے خلاف اسرائیلی حملوں کا مکمل خاتمہ تھا ۔جنگ بندی کے تحت بیروت کومعنی خیز اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ حزب اللہ اور دیگر تمام باغی غیر ریاستی مسلح گروہوں کو اسرائیلی اہداف پر حملے کرنے سے روکا جا سکے ۔ حکومت پہلے ہی لبنانی فوج کی تعیناتی کیلئے اہم اقدامات کر چکی ہے اور اس سمت میں کام کر رہی ہے کہ فوج کو لبنان میں اسلحے پر مکمل اجارہ داری حاصل ہو، تاہم اسرائیلی قبضہ اور حملے اس بہتری کی راہ میں رکاوٹ بنے رہے جن پر حکومت اس جنگ کے آغاز سے قبل کام کر رہی تھی۔ دوسری طرف لبنان میں گزشتہ ماہ زخمی ہونے والا اقوام متحدہ امن مشن کا انڈونیشین نژاد رکن دم توڑ گیا، اس طرح لبنان جنگ میں ہلاک ہونے والے یو این مشن کے اہلکاروں کی تعداد 6 ہوگئی ۔