مغربی کنارا:20برس قبل ختم کی گئی یہودی بستی پھر آباد

 مغربی کنارا:20برس قبل ختم  کی گئی یہودی بستی پھر آباد

مغربی کنارہ(اے ایف پی) اسرائیل نے مغربی کنارے میں 20 برس قبل ختم کی گئی یہودی بستی ’’سا نور‘‘کو دوبارہ آباد کرنا شروع کر دیا۔اسرائیلی وزیر خزانہ بیزالیل سموٹریچ نے دوبارہ آبادی کو ’’تاریخی اصلاح‘‘قرار دیا۔واضح رہے عالمی قانون کے تحت مغربی کنارے میں قائم تمام یہودی بستیاں غیر قانونی سمجھی جاتی ہیں۔۔

، تاہم اسرائیل مسلسل نئی آبادکاریاں بڑھا رہا ہے ۔یورپی یونین کے وزرائے خارجہ نے پیر کو اسرائیلی آبادکاروں پر نئی پابندیوں پر اتفاق کیا ہے ۔یورپی یونین کی اعلیٰ سفارت کار کایا کالاس نے کہا کہ یہی وقت ہے کہ ہم تعطل سے نکل کر انجام دہی کی طرف بڑھیں۔فرانسیسی وزیرِ خارجہ ژاں نول بیروٹ نے کہا یورپی یونین نے اہم اسرائیلی تنظیموں نیز ان کے رہنماؤں پر بھی پابندیاں عائد کی ہیں جو مغربی کنارے میں انتہا پسند اور پرتشدد نوآبادیات کی حمایت کرنے کے جرم میں قصوروار ہیں،اسرائیل نے نئی پابندیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہودیوں کو مقبوضہ مغربی کنارے میں آباد ہونے کا پورا حق حاصل ہے ۔دوسری جانب اسرائیل نے تصدیق کی ہے کہ لبنانی سرحد کے قریب حزب اللہ کے ڈرون حملے میں ایک اور فوجی ہلاک ہو گیا۔

 

 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں