ہرمز کی بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائیں گے، مارکو روبیو: معاہدہ اگلے ہفتے: ڈونلڈٹرمپ
مجوزہ معاہدے کا جائزہ لیاجارہا:ایرانی میڈیا،عراق کے قریب امریکا و اسرائیل سے تعلق رکھنے والے جہاز پر حملہ، 24جہاز ہرمز سے گزر گئے جنگ بندی کی یقین دہانی کے باوجود لبنان پر اسرائیلی حملے ،13 شہید، حزب اللہ کی اسرائیلی ٹینکوں پر گولہ باری ،مذاکرات کا چوتھا دور شروع
تہران ، واشنگٹن(نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امید ظاہر کی ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے حوالے سے ایک معاہدہ اگلے ہفتے تک طے پا جائے گا۔جبکہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا آبنائے ہرمز کی بحالی پربھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائیں گے ۔ادھر ایرانی ذرائع ابلاغ نے منگل کے روز رپورٹ کیا کہ ایران امریکا کے ساتھ جنگ روکنے کیلئے پیش کیے گئے ایک مجوزہ معاہدے کا جائزہ لے رہا ہے ، تاہم گزشتہ چند دنوں سے تہران اور واشنگٹن کے درمیان کوئی رابطہ نہیں ہوا،آخری پیغام لبنان کے حوالے سے تہران کا واضح مؤقف تھا، جہاں ایران اپنے اتحادی حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کے خاتمے کا خواہاں ہے ۔ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں کہا واشنگٹن اور تہران کے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے اور گزشتہ چند دنوں کے دوران بھی مذاکرات کا سلسلہ نہیں رکا۔ ان کے مطابق چار دن پہلے ، تین دن پہلے ، دو دن پہلے ، ایک دن پہلے اور آج بھی دونوں ممالک کے درمیان گفتگو ہوئی ہے ۔ٹرمپ نے کہا کہ مذاکرات کا نتیجہ کیا نکلے گا، اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے ، تاہم انہوں نے معاہدے تک پہنچنے کے لیے ایران پر زور دیا ہے ۔انہوں نے کہا، ‘اب وقت آ گیا ہے کہ کسی نہ کسی طریقے سے معاہدہ کیا جائے ۔
آپ یہ معاملہ 47 سال سے جاری رکھے ہوئے ہیں اور اسے مزید جاری رہنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔واشنگٹن میں ایک ٹیلی فونک انٹرویو میں کہاصورتحال اچھی لگ رہی ہے ، بہت اچھی۔ ایک چھوٹا سا مسئلہ پیش آیا، لیکن جیسا کہ آپ نے دیکھا ہی ہو گا، میں نے اسے بہت جلد حل کر دیا۔یہ مسئلہ لبنان میں اسرائیلی حملوں پر ایرانی ناراضی کے باعث پیدا ہوا تھا۔میں نے حزب اللہ سے بات کی اور کہا کہ فائرنگ نہ کریں۔ میں نے بی بی (اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو)سے بھی بات کی اور کہا کہ فائرنگ نہ کریں۔ دونوں فریقوں نے ایک دوسرے پر فائرنگ بند کر دی۔انہوں نے کہا یہ کوئی آسان معاملہ نہیں ۔ آپ ایک بہت بڑے ملک کی بات کر رہے ہیں جو ایک معاہدہ کرنا چاہتا ہے ۔ بہت گہری دشمنیاں موجود ہیں، اس لیے یہ ان کیلئے بھی آسان نہیں اور ہمارے لیے بھی نہیں۔ لیکن ہم اس طرف بڑھ رہے ہیں جو ہمیں درکار ہے ۔آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق مفاہمتی یادداشت کے حتمی ہونے اور دستخط کے وقت کے بارے میں انہوں نے کہا میرا خیال ہے کہ یہ اگلے ہفتے تک ہو جائے گا۔ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے ابھی تک اس معاہدے کو منظور نہیں کیا کیونکہ ان کے بقول ابھی چند مزید نکات پر اتفاق ہونا باقی ہے ۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے امریکی سینیٹ کی خارجہ امور کمیٹی کو بتایا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ‘جوہری پروگرام کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا ایران ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔ مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ لیکن اس بات کی ضمانت نہیں ہے کہ اس کے تحت کوئی قابلِ قبول معاہدہ ہو جائے گا۔اس موقع پر وزیر خارجہ نے امریکی آپریشنز کا دفاع کیا اور انہیں انتہائی کامیاب قرار دیا۔انہوں نے کہا آپریشن ایپک فیوری جسے آپ میں سے کچھ لوگوں نے ناپسند کیا اور کچھ نے پسند کیا، اپنے عسکری مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے ، جس نے ڈرامائی طریقے سے ایران کی دفاعی انڈسٹری کی بنیاد کو کمزور کر دیا ہے ۔مارکو روبیو نے دعویٰ کیا کہ آج ایران کے پاس بحریہ نامی کوئی چیز نہیں ہے بلکہ وہ سمندر کی تہہ میں موجود ہے ۔سینیٹ میں انہوں نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان ممکنہ معاہدے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکاآبنائے ہرمز کی مکمل بحالی کی صورت میں بھی ایران پر سے پابندیاں نہیں ہٹائے گا۔
روبیو نے امریکی اراکین سینیٹ کو بتایا کہ اس پر گفتگو نہیں ہوئی ہے ، ایسی کوئی پیشکش نہیں کی گئی ہے ۔ان کا مزید کہنا تھا کہ پابندیوں میں نرمی اس شرط کی بنیاد پر کی جا سکتی ہے کہ ایران اپنی افزودہ یورینیم اور جوہری پروگرام کے دیگر پہلوؤں سے دستبردار ہو جائے ۔دوسری جانب ایرانی کمرشل جہاز پر امریکی حملے کے بعد ایران نے جوابی کارروائی کر دی،پاسدارانِ انقلاب کے مطابق عراقی سمندری حدود کے قریب امریکا اور اسرائیل سے تعلق رکھنے والے جہاز پر کروز میزائل سے حملہ کیا گیا جس سے جہاز پر دھماکا ہوا ۔ انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ کسی بھی حملے کا فیصلہ کُن جواب دیں گے ۔دنیا کی سب سے بڑی شپنگ کمپنی ایم ایس سی (میڈیٹرینیئن شپنگ کمپنی)نے تصدیق کی کہ ایک جہاز گزشتہ روز عراق کی بندرگاہ ام قصر میں دو گولوں کی زد میں آیا۔ایرانی پاسداران انقلاب بحریہ کا کہنا ہے کہ گزشتہ روزسے اب تک 24 تجارتی جہازوں نے پاسداران بحریہ کی اجازت اور تعاون سے آبنائے ہرمز کو پار کیا۔ایران کے سپیکر اور چیف مذاکرات کار باقر قالیباف نے کہا ہے کہ اسرائیل نے لبنان پر حملے جاری رکھے تو امریکا سے مذاکرات روک دیں گے ۔ادھر ایرانی پارلیمنٹ کی نیشنل سکیورٹی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی کاکہنا تھا کہ لبنان پر حملے بند نہ ہوئے توسنگین نتائج ہوں گے ۔انہوں نے کہا یہ کھوکھلی دھمکی نہیں ہے ، ایران فوجی جواب دینے کیلئے مکمل طور پر تیار ہے ، خطے میں امریکی افواج بھی نتائج بھگتیں گی۔ایران کے خاتم الانبیا سنٹرل ہیڈکوارٹر کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل محمد جعفر اسدی نے امریکی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی دفاعی صلاحیتیں کمزور نہیں ہوئیں اور فوجی سازوسامان کی تیاری کیلئے استعمال ہونے والی تنصیبات دشمن سے مکمل طور پر پوشیدہ ہیں جبکہ ملک کی دفاعی پیداوار قابل قبول سطح پر برقرار ہے ۔انہوں نے کہا ہم بارہا کہہ چکے ہیں کہ ہم نے ابھی تک اپنے تمام کارڈز ظاہر نہیں کیے ، ہمارے پاس اب بھی بہت سی ایسی صلاحیتیں موجود ہیں جنہیں ضرورت پڑنے پر استعمال کیا جائے گا۔اس وقت فوجی سازوسامان تیار کرنے اور مسلح افواج کی معاونت کیلئے استعمال ہونے والے مقامات مکمل طور پر دشمن سے چھپے ہوئے ہیں اور اسے ان کے مقام کے بارے میں کوئی معلومات نہیں، لہٰذا ہماری دفاعی پیداوار کی صورتحال تسلی بخش ہے ۔انہوں نے کہا امریکا مکمل سرنڈرکا مطالبہ کر رہا ہے ، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، سرنڈرکرناآپشن نہیں ہے ، جنگی کارروائیوں کا دوبارہ آغاز ناگزیر دکھائی دیتا ہے ، ہم جنگ کیلئے تیار ہیں اور ہمیں اس سے کوئی مسئلہ نہیں ، اگر جنگ میں نیٹوبھی شامل ہوتی ہے تو بھی ہمیں پریشانی نہیں ہے ۔ترجمان ایرانی پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکا اپنی پوری طاقت کے ساتھ میدان میں اترا، لیکن وہ چند منٹوں کے لیے بھی آبنائے ہرمز کو ایران کے کنٹرول سے باہر نہیں نکال سکا۔ترجمان نے کہا کہ تمام ممکنہ حالات کیلئے مکمل طور پر تیار ہیں،کسی بھی صورتحال میں اعلیٰ ترین سطح کی عسکری تیاری ، جنگی حکمت عملی میں ضروری تبدیلیوں کے ساتھ جواب دیں گے ، ترجمان کے مطابق آج ایرانی مسلح افواج کی تیاری ماضی کے مقابلے کہیں زیادہ ہے ،
یہ تیاری نہ صرف سابقہ صلاحیتوں پر مبنی ہے بلکہ میدانِ جنگ اور دشمن کے ساتھ براہِ راست ہوئے تجربات کا بھی نتیجہ ہے ۔علاوہ ازیں لبنان کا کہنا ہے کہ حزب اللہ نے اس منصوبے کو قبول کیا ہے جس کے تحت وہ اسرائیل پر حملے روک دے گی اور اسرائیل لبنانی دار الحکومت بیروت پر حملہ نہیں کرے گا۔جبکہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھی اس معاہدے کی تصدیق کی، تاہم انہوں نے کہا کہ اگر ‘حزب اللہ ہمارے شہروں اور شہریوں پر حملے بند نہیں کرتی’ تو بیروت پر حملے کیے جائیں گے ۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اسرائیلی افواج جنوبی لبنان میں اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گی۔اگرچہ بظاہر جنگ بندی بڑی حد تک قائم دکھائی دی، تاہم رات کے دوران مزید تشدد کے واقعات سامنے آئے ۔منگل کے روز بھی بیروت کے اوپر اسرائیلی ڈرونز کی مسلسل گونج نے شہریوں کو خوف میں مبتلا رکھا۔اسرائیلی فورسز نے نبطیہ شہر اور اس کے گرد و نواح کو مسلسل فضائی حملوں اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا ،عرب میڈیا کے مطابق نبطیہ ضلع کے وسیع علاقے میں واقع قصبوں حروف اور کفر صیر کو بھی ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ یونیورسٹی امتحانات دے کر واپس آنے والے دو طلبہ اور ان کے والد کی گاڑی کو نبطیہ خردالی روڈ پر ڈرون حملے میں نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں تینوں افراد شہید ہو گئے ۔لبنان کے بحیرہ روم کے ساحل کے ساتھ واقع ضلع صور میں بھی اسرائیلی کارروائیاں جاری رہیں جہاں قصبہ الحنیہ پر حملہ کیا گیا جبکہ قلیلہ پر دو فضائی حملے کیے گئے ۔ صور میں ہسپتال کے قریب اسرائیلی فضائی حملے میں 4 افراد شہید جبکہ 127 زخمی ہو گئے ۔دبین کے قصبے میں ایک شدید دھماکے سے علاقہ لرز کر رہ گیا۔لبنانی وزارت صحت کے مطابق جنوبی لبنان کے علاقہ مروانیہ پر اسرائیلی فضائیہ کی بمباری میں 2 بچوں سمیت 6 افراد شہید جبکہ 4 زخمی ہوگئے ۔حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اس کے جنگجوؤں نے جنوبی لبنان کے قصبوں حداثہ اور بیّادہ میں اسرائیلی ٹینکوں کو میزائلوں اور گولہ باری سے نشانہ بنایا۔اسرائیلی فوج کے مطابق منگل کی صبح لبنان سے شمالی اسرائیل کی طرف داغے گئے دو میزائل مار گرائے گئے اور اس حملے میں کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے ۔ان جھڑپو ں کے باوجود لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کا چوتھا دور امریکا میں شروع ہو گیا ہے ۔لبنان کی سرکاری نیشنل نیوز ایجنسی کے مطابق وفود کی آمد کے بعد لبنان اور امریکا کے درمیان مذاکرات امریکی محکمہ خارجہ میں شروع ہوئے ہیں۔