برطانیہ:زخمی طالبعلم کی ہتھکڑی میں موت ، پولیس کارروائی پر سوالات،شدید عوامی ردعمل

برطانیہ:زخمی طالبعلم کی ہتھکڑی  میں موت ، پولیس کارروائی پر  سوالات،شدید عوامی ردعمل

ساوتھمپٹن(اے ایف پی)برطانیہ میں پولیس کی باڈی کیمرہ فوٹیج سامنے آنے کے بعد شدید ردعمل سامنے آ گیا ہے ، جس میں ایک زخمی طالب علم کو چاقو حملے کے باوجود ہتھکڑی لگاتے دیکھا جا سکتا ہے ۔

برطانوی پولیس کی باڈی کیمرہ فوٹیج، جس میں ایک زخمی طالب علم کو ہتھکڑی لگائی گئی تھی اور بعد میں اسے ایک سکھ شخص کے  ہاتھوں قتل کے مقدمے میں غلط طور پر نسلی بدسلوکی کا مرتکب قرار دیا گیا تھا۔اٹھارہ سالہ ہنری نوواک کو فوٹیج میں بار بار یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ "مجھے سانس نہیں آ رہا"، یہ مناظر اس وقت ریکارڈ کیے گئے جب وہ دسمبر میں فٹبال ٹیم کے ساتھ رات گزارنے کے بعد شدید زخمی حالت میں پڑا تھا۔جج نے پیر کو اس کے قاتل 23 سالہ وکرم ڈگوا، جو ایک سکھ شہری ہے ، کو 21 سال قید کی سزا سنائی ہے ، جنہوں نے نوواک کو 21 سینٹی میٹر (8 انچ) لمبے چاقو سے قتل کیا تھا۔پولیس کے موقع پر پہنچنے پر ڈگوا نے پولیس افسران کو گمراہ کرتے ہوئے کہا کہ نوواک نے اس کے ساتھ نسلی بدتمیزی کی تھی اور وہ خود متاثرہ ہے ۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں