روس کا یوکرین پر بڑا ڈرون حملہ، 7افراد ہلاک، فیکٹری تباہ
216 ڈرونز اور 2میزائل فائر کئے گئے ،دونوں ملکوں میں 185قیدیوں کا تبادلہ یوکرینی ڈرون رومانیہ کی قسطنطہ بندرگاہ میں تباہ، روس اور یوکرین کی الزام تراشی
کیف (اے ایف پی)یوکرینی حکام کے مطابق روس نے جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب سے صبح تک سینکڑوں ڈرونز کے ذریعے یوکرین پر بڑا حملہ کیا، جس میں کم از کم 7 افراد ہلاک ہو گئے جبکہ بچوں کیلئے دودھ کی مصنوعات بنانے والی ایک فیکٹری مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔کیف کے علاقائی گورنر میکولا کلاشنیک نے کہا کہ دشمن نے ایک پرامن شہری فوڈ انڈسٹری کے ادارے کو نشانہ بنایا،جس میں 4افراد ہلاک ہوئے ۔یوکرین کے وسطی علاقے دنیپروپیٹروسک میں 2افراد ہلاک ہوئے جبکہ جنوبی علاقے زاپوریژیا میں ایک خاتون ڈرون حملے میں جان کی بازی ہار گئی۔یوکرینی فضائیہ کے مطابق روس نے اس حملے میں کم از کم 216 ڈرونز اور 2 میزائل فائر کئے ۔یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے روسی صدر ولادیمیر پوٹن کو ایک خط کے ذریعے ملاقات کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ اہم مسائل کے حل کیلئے براہِ راست بات چیت ضروری ہے ۔کریملن نے کہا کہ صدر پوٹن نے ابھی اس خط کا جائزہ نہیں لیا۔
دوسری طرف رومانیہ کے بحیرہ اسود کے ساحلی شہر قسطنطہ کی بندرگاہ میں جمعہ کی صبح ایک یوکرینی بحری ڈرون دھماکے سے تباہ ہو گیا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔یوکرین نے دعویٰ کیا کہ روسی الیکٹرانک مداخلت کے باعث ڈرون راستہ بھٹک گیا۔رومانیہ کی وزارتِ دفاع کے مطابق یہ ڈرون خودکار طور پر مقامی وقت کے مطابق صبح تقریباً ساڑھے 10 بجے تباہ ہوا۔یوکرینی بحریہ نے تصدیق کی کہ یہ اس کا ڈرون تھا، اور روسی الیکٹرانک وارفیئر سسٹمز نے اس کے کنٹرول کو متاثر کیا۔بخارسٹ میں روسی سفارت خانے نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے کو روس سے جوڑنا بے بنیاد ہے ۔ روس اور یوکرین نے جمعہ کے روز 185-185 جنگی قیدیوں کا تبادلہ کیا، جس کی تصدیق دونوں فریقوں نے کی ہے ۔