ایران کے مذاکرات کا ر ہمیں بیوقوف بنا رہے:ٹرمپ:رات گئے کئی ایرانی شہروں میں دھماکوں کی آوازیں
ٹرمپ کی دھمکی کے بعدتہران ،کیش،میناب،سیریک میں دھماکے ، دفاعی نظام فعال،حملے شروع کردئیے ،متعدد اہداف کو نشانہ بنارہے ،امریکی سینٹ کام ایران کے اردن، کویت، بحرین میں امریکی اڈوں پرحملے ،دھمکیوں سے ہار نہیں مانیں گے :پزشکیان،امریکی ہلاکتیں ٹرمپ کے اعتراف سے کہیں زیادہ:عزیزی
تہران، واشنگٹن(نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دوبارہ حملوں کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ایران کے مذاکرات کار ہمیں بیوقوف بنا رہے ہیں۔ٹرمپ کی دھمکی کے بعد رات گئے ایران کے کئی شہروں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ایرانی اور عرب میڈیا کے مطابق تہران، جزیرہ کیش،سیریک اور میناب میں دھماکے سنے گئے جس کے بعد تہران اور فارس میں دفاعی نظام فعال کردئیے گئے ۔امریکی سینٹ کامنے تصدیق کی کہ ایران پر حملے شروع کردئیے ہیں ۔امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ایران میں متعدد اہداف کو نشانہ بنارہے ہیں ۔ قبل ازیں اوول آفس میں بات چیت کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا امریکا نے گزشتہ روز بھی ایران پر ایک سخت حملہ کیا تھا اور ہم آج بھی ان پر سخت حملہ کریں گے اور پھر دیکھیں گے کہ معاہدے کا کیا ہوتا ہے ۔
انہوں نے کہا ایران کے ساتھ کسی معاہدے کے قریب ہیں لیکن تہران حیل و حجت سے کام لے رہا ہے ۔وہ ہمیں بے وقوف بنانے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ مجھے شرمندگی سے کہنا پڑ رہا ہے کہ ماضی میں ان کا بے وقوف صدور سے پالا پڑتا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا ہم ایک معاہدے کے بہت قریب تھے ، لیکن وہ مسلسل ہمیں اشتعال دلا رہے ہیں۔ہم نے پاکستان کی درخواست پر ایران کے خلاف کارروائی روکی تھی، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف اچھے دوست اور بہترین شخصیات ہیں، پاکستان اب بھی ایران کے معاملے پر کوشش جاری رکھے ہوئے ہے ۔انہوں نے کہا میں ایران کے ساتھ کئی مہینوں سے کام کر رہا ہوں اور انہیں معاہدے پر دستخط کرنا چاہیے کیونکہ یہ ایک اچھا معاہدہ ہے ۔اس کے تحت انھیں جوہری ہتھیار بنانے کا حق حاصل نہیں ہے ۔ حقیقت میں ان پر کبھی بھی جوہری ہتھیار بنانے پر پابندی ہوگی۔قبل ازیں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا ایران مکمل طور پر شکست کھا چکا ہے ، وہ صرف باتیں کرتے ہیں اور عمل کچھ نہیں،مشرقِ وسطیٰ کا بدمعاش اب ڈھے چکا ہے ، ایران نے ایک ایسا معاہدہ طے کرنے میں بہت تاخیر کر دی، جو ان کیلئے بہترین ہو سکتا تھا، اب انھیں اس کی قیمت چکانی پڑے گی۔ ٹرمپ نے ایک ٹیلی فونک انٹرویو میں کہا کہ وہ ایران کے بجلی گھروں اور پلوں پر نئے حملوں کا حکم دینے کے قریب ہیں۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کیوبا میں واقع امریکی فوجی اڈے گوانتانامو بے کے دورے کے دوران کہا ایران کے لیے یہ غیر دانشمندانہ ہوگا کہ وہ مزید امریکی کارروائیوں کو چیلنج کرے ، خاص طور پر اس کے بعد جب اس نے امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر کی تباہی کے جواب میں گزشتہ رات حملے کیے ۔
انہوں نے کہافی الحال یہ دفاعی نوعیت کے حملے ہیں تاکہ ہم اپنے لوگوں کی حفاظت یقینی بنا سکیں۔ ایک بار پھر، ایران کے لیے بہتر ہوگا کہ وہ ہمیں مزید چیلنج نہ کرے ۔ ہیگستھ نے کہا صدر ٹرمپ ایک معاہدہ چاہتے ہیں، لیکن محض کوئی بھی معاہدہ نہیں، بلکہ ایک بڑا اور بہترین معاہدہ جو امریکی عوام کے مفاد میں ہو تاکہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے ۔ادھر ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ان کا ملک بار بار ہونے والی جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے بعد جنگ کے خاتمے کیلئے ہونے والے سفارتی مذاکرات کے مستقبل کا ازسرِ نو جائزہ لے رہا ہے ۔انہوں نے کہا سفارت کاری اور میدانِ جنگ الگ معاملات نہیں ہیں، بلکہ یہ ایران کے مفادات اور سلامتی کے تحفظ کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ایرانی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں ملک کے جنوب میں ہونے والے امریکی حملوں کو اقوامِ متحدہ کے چارٹر، خاص طور پر آرٹیکل ٹو اور بین الاقوامی تعلقات میں طاقت کے استعمال پر پابندی کے بنیادی اصول کی سنگین خلاف ورزی کہا۔ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ایرانی قوم بمباری، دھمکیوں اور فوجی دباؤ کے ذریعے ہار نہیں مانے گی،تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ایران کے ‘دشمنوں’ کا ایک مقصد تہران کے خلاف عرب دنیا اور مسلمان ممالک کو متحرک کرنا تھا لیکن سفارتکاری نے درست سمت میں کام کرتے ہوئے خطے کے ممالک کو امریکا اور اسرائیل سے دور رکھا۔انہوں نے کہا ہم پابندیوں کی زد میں ہیں، ہمارے راستے بند کر دئیے گئے ہیں اور ہمیں ایک امتحان کا سامنا ہے ۔جنگ ملک کے مفاد میں نہیں ہے ، لیکن اگر ہمارے وقار اور سرزمین کی خلاف ورزی کی جائے گی تو ہم جھکیں گے نہیں۔
ایرانی پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا ہم شکست خوردہ لوگوں سے لڑنے سے نہیں ڈرتے ۔ امریکی ہلاکتوں کی تعداد پہلے ہی ٹرمپ کے اعتراف سے کہیں زیادہ ہے ، اور یہ مزید بڑھے گی۔ اس بار جنگ خطے تک محدود نہیں رہے گی۔ دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے !یہ پیش رفت دونوں ممالک کے درمیان فائرنگ اور حملوں کے تبادلے کے بعد سامنے آئی ہے ، جسے اپریل میں طے پانے والی جنگ بندی کے بعد سب سے سنگین کشیدگی قرار دیا جا رہا ہے ۔کشیدگی کا آغاز آبنائے ہرمز کے قریب ایک امریکی ہیلی کاپٹر کے حادثے کے بعد ہوا، تاہم اس کے دونوں عملہ ارکان کو بحفاظت بچا لیا گیا۔امریکا کا دعویٰ ہے کہ ہیلی کاپٹر کو ایران نے مار گرایا، جس کے جواب میں امریکی افواج نے آبنائے ہرمز کے اطراف ایران کے 20 اہداف کو نشانہ بنایا، جسے "متناسب ردعمل" قرار دیا گیا۔اس کے بعد ایران نے اردن، کویت اور بحرین میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ، تاہم کسی جانی نقصان یا تنصیبات کو نقصان پہنچنے کی اطلاع نہیں ملی۔امریکی سنٹرل کمانڈ نے ایران کے خلاف اپنی جوابی کارروائیاں ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا ایران کے خلاف جوابی حملوں کا سلسلہ مکمل کر لیا ہے ،یہ مشن بلا جواز ایرانی جارحیت کے تناسب میں ایک جواب ہے ۔ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ تشدد کو بڑھاوا دینے والی امریکی حکومت نے علی الصبح جسک، سرک اور قشم کے کئی مقامات پر حملے کیے ، جس کے نتیجے میں سرک میں ایک مواصلاتی ٹاور کو نقصان پہنچا اور شہری سپلائی کے پانی کے دو ٹینک تباہ ہو گئے ۔
امریکی حملوں کے بعد ضلع بیمانی اور کوہستک شہر میں پانی منقطع ہوگیا۔ہرمزگان کی واٹر اینڈ ویسٹ واٹر کمپنی کے چیف ایگزیکٹو نے بتایا کہ بیمانی میں 2ہزار 500 مکعب میٹر گنجائش والے دو کنکریٹ کے پانی کے ذخیرہ ٹینک میزائلوں سے نشانہ بنائے گئے اور مکمل طور پر ناکارہ ہو گئے جس سے بیمانی کے علاقے میں 20 ہزار افراد صاف پانی کی فراہمی سے محروم ہو گئے ہیں۔یہ ذخائر کوہستک شہر اور اس کے گرد و نواح کے 10 دیہات کو بھی پینے کا پانی فراہم کرنے کے ذمہ دار تھے ۔پاسداران انقلاب نے شمالی خلیج فارس میں ایک امریکی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے ، بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز میں جاری فضائی لڑائی کے دوران ایک ایم کیو-9 ڈرون کو مار گرایا ہے ،ڈرون کا مقصد شمالی خلیج فارس کے آسمان سے میدان جنگ میں داخل ہونا اور مداخلت کرنا تھا۔
ڈرون جام کاؤنٹی، بوشہر صوبے کی فضا میں تباہ کیا گیا ہے ۔ سینٹکام نے ابھی تک اس دعوے کا جواب نہیں دیا ہے ۔پاسداران انقلاب نے اردن میں امریکی فوجی اڈے پر میزائل حملے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا اپنے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ٹھوس ایندھن کے میزائلوں کے ذریعے چار اہم اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں امریکی فضائی اڈے پر F-35 لڑاکا جیٹ ہینگرز اور الارزق میں آرمی کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر شامل ہیں۔ایران نے قدر، عماد اور خیبر شکن نامی طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کا استعمال کیا۔اردن کی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ایران کی طرف سے داغے گئے پانچ میزائلوں کو مار گرایا ہے ۔میزائلوں کا ملبہ مختلف علاقوں میں گرا تاہم میزائل کے ٹکڑوں سے کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔ایرانی میڈیا نے پاسداران انقلاب کے حوالے سے بتایا ہے کہ پاسداران انقلاب کی بحری افواج نے بحرین کے پانچویں بحری بیڑے پر صبح ڈھائی بجے ڈرون حملہ کیا۔ایرانی فوج کے مطابق ڈرون حملوں کی لہر کے ساتھ امریکی اڈوں اور امریکی پانچویں بیڑے کے ریڈار سسٹم کو نشانہ بنایا ہے ۔ایران کی جانب سے حملوں کے بعد کویت سے خبر سامنے آئی ہے کہ اس نے ایران کی جانب سے کیے گئے حملوں کو روک لیا ہے ۔