امریکا کا بھارت کو دھچکا، انڈو پیسیفک کمانڈ کا پرانا نام بحال
نام کی تبدیلی سے کمانڈ کے دائرۂ اختیار میں تبدیلی نہیں آئے گی:پینٹاگون فیصلے کے بعد بھارت کے پاس کوئی سٹریٹجک کردار نہیں رہا:بھارتی تجزیہ کار
واشنگٹن(اے ایف پی،دنیارپورٹ،مانیٹرنگ ڈیسک)امریکا نے بھارت کو ایک اور بڑا دھچکا دے دیا،امریکی محکمہ دفاع نے اعلان کیا ہے کہ امریکی انڈو پیسیفک کمانڈ کا نام دوبارہ تبدیل کرکے "امریکی پیسیفک کمانڈ"رکھ رہے ہیں ، 2018 میں کیے گئے فیصلے کو واپس لے لیا ہے ۔ بیان میں کہا گیا کہ نام کی تبدیلی سے کمانڈ کے دائرہ اختیار میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔بیان کے مطابق یہ تبدیلی کمانڈ کی گہری تاریخی جڑوں کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے اور بحرالکاہل کے خطے میں خدمات انجام دینے والے تمام افراد میں فخر اور اجتماعی جذبے کو فروغ دیتی ہے ، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔امریکی پیسیفک کمانڈ دوسری جنگِ عظیم کے بعد سابق امریکی صدر ہیری ٹرومین نے قائم کی تھی۔یہ کمانڈ 70 سال سے زائد عرصے تک اسی نام سے کام کرتی رہی، تاہم 2018 میں اسے "امریکی انڈو پیسیفک کمانڈ" کا نام دیا گیا تھا جو امریکی تزویراتی سوچ میں بحرِ ہند کی بڑھتی ہوئی اہمیت کا عکاس تھا۔2018
میں نام کی تبدیلی واشنگٹن کی ان وسیع تر کوششوں کا بھی حصہ تھی جن کا مقصد ایشیا بحرالکاہل کے خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنا تھا۔ 2018 میں اس کمانڈ کے نام میں ’انڈو‘ کا لفظ امریکا کی جانب سے بھارت کی بڑھتی ہوئی سٹرٹیجک اہمیت کا اعتراف کرنے کے لیے شامل کیا گیا تھا۔اس لیے اب کمانڈ کے نام کو تبدیل کرنے کے فیصلے کو پینٹاگون کی جانب سے ایک بڑی پالیسی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کہ امریکا اب خطے میں بھارت کو نظر انداز کر رہا ہے ۔
بھارت میں اپوزیشن جماعت کانگریس کے رہنما اور سابق وزیر خارجہ ششی تھرور نے اس پیشرفت پر سوال کیا کہ آیا یہ اقدام کواڈ اتحاد کے تابوت میں ایک اور کیل ہے ؟انڈین دفاعی تجزیہ کار پروین سواہنی نے کہا اس فیصلے کے بعد بھارت کے پاس کوئی سٹرٹیجک کردار نہیں رہا۔ سادہ الفاظ میں یہ کہ ایشیا پیسیفک خطے میں اب امریکا کو بھارت کی کوئی جغرافیائی سیاسی ضرورت نہیں رہی۔اُن کا کہنا ہے کہ بھارت کا نام نہاد ‘بیک یارڈ'کہلائے جانے والے جنوبی ایشیائی خطے میں چین اور پاکستان اب جغرافیائی، سیاسی، معاشی اور عسکری اثر و رسوخ رکھیں گے ۔ایشیا نیوز انٹرنیشنل (اے این آئی) کی مدیر سمیتا پرکاش پوچھتی ہیں کہ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکی سٹریٹیجی اور پالیسی سے ‘بحرہند کو نکال دیا گیا ہے ؟۔