اسرائیل نے غزہ میں بچوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا:اقوام متحدہ
2سال میں 20 ہزار 179بچے شہید،جومجموعی شہادتوں کا 30 فیصد ہیں :رپورٹ غزہ اسٹیبلائزیشن فورس میں شمولیت کیلئے مراکشی فوجی آفیسر اسرائیل پہنچ گئے امریکاکی دل سے قدرمگر اسرائیل کو امریکی اسلحے پر انحصار کم کرنا ہوگا:نیتن یاہو
جنیوا،یرو شلم(رائٹرز،اے ایف پی)اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے جان بوجھ کر فلسطینی بچوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں غزہ میں نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم سرزد ہوئے ۔اقوام متحدہ کے آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن برائے مقبوضہ فلسطین کی رپورٹ میں 7 اکتوبر 2023 سے اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کے آغاز کے بعد سے فلسطینی بچوں کے خلاف ہونے والی خلاف ورزیوں کا جائزہ لیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق غزہ جنگ میں ہلاک ہونے والوں میں تقریباً 30 فیصد بچے تھے ۔کمیشن کے مطابق فلسطینی بچوں کو جنگ کے دوران، حتیٰ کہ اکتوبر 2025 میں جنگ بندی کے بعد بھی، جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا۔ کمیشن کے سربراہ سرینیواسن مرالی دھر نے کہا کہ شواہد ظاہر کرتے ہیں کہ اسرائیلی فورسز نے فلسطینی بچوں کو دانستہ طور پر شہید کیا۔رپورٹ میں کہا گیا کہ 7 اکتوبر 2023 سے 7 اکتوبر 2025 کے درمیان کم از کم 20ہزار179 بچے شہیدہوئے ، جو مجموعی شہادتوں کا تقریباً 30 فیصد ہیں۔ٹرمپ کے بورڈ آف پیس کے مطابق مراکش کی فوج کے 4آفیسراسرائیل پہنچ گئے ہیں تاکہ غزہ کے لیے تشکیل دی جانے والی بین الاقوامی فورس میں شامل ہو سکیں۔اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو نے ایک بار پھر اپنے ملک پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی فوجی خودمختاری میں اضافہ کرے اور امریکا پر انحصار کم کرے ، انہوں نے مقبوضہ مغربی کنارے میں ریزرو افسران کے ایک تربیتی کورس سے خطاب کرتے ہوئے کہامیں امریکی دوستوں کی طرف سے ملنے والی حمایت کی دل سے قدر کرتا ہوں، لیکن ہمیں اس انحصار سے آزاد ہو کر اپنا خود مختار اسلحہ نظام بنانا ہوگا۔