فرانس :گرمی سے ہلاکتیں،وزیر اعظم کیخلاف تحریک عدم اعتماد کا اعلان

فرانس :گرمی سے ہلاکتیں،وزیر اعظم کیخلاف تحریک عدم اعتماد کا اعلان

ہلاکتوں کی وجہ حکومتی نااہلی،موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی تیاری نہیں کی :اپوزیشن،تحریک کی کامیابی کا امکان کم اموات کی تعداد 1000سے کہیں زیادہ ہو سکتی :فرانسیسی ہیلتھ حکام،امریکا میں بھی شدید گرمی ، نظام زندگی متاثر

پیرس،واشنگٹن(اے ایف پی ) یورپ کو اپنے مہیب شکنجے میں جکڑنے والی موسمیاتی تبدیلیوں نے فرانس میں قہر برپا کر دیا، ریکارڈ توڑ گرمی کے باعث ایک ہزار سے زائد افراد زندگی کی بازی ہار گئے ، جس نے ملک میں نہ صرف ہنگامی صورتحال پیدا کر دی ہے بلکہ حکومت کے وجود کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے ۔ اپوزیشن نے ہلاکتوں کی وجہ حکومتی نااہلی کو قرار د یا اور وزیرِ اعظم کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد لانے کا حتمی اعلان کر دیا ہے ۔ فرانس کو مئی میں 5 دن جبکہ جون میں مسلسل 11 دن تک شدید ترین گرمی کی لہر (ہیٹ ویو) کا سامنا کرنا پڑا، جہاں کئی شہروں میں درجہ حرارت 40ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا۔ہیلتھ حکام کے مطابق اب تک ایک ہزار سے زائد اموات کی تصدیق ہو چکی ہے ، تاہم اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ موجودہ ڈیٹا صرف 60 فیصد ڈیجیٹل ڈیتھ سرٹیفکیٹس پر مبنی ہے ۔گرین پارٹی کی پارلیمانی لیڈر سیریل چیٹلین نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ گرمی کی طرح حکومت کی نااہلی اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے تیاریوں کا نہ ہونا بھی لوگوں کو مار رہا ہے ۔

ہمارے سکولوں اور ہسپتالوں کی موجودہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ یہ حکومت انتظام چلانے کے اہل ہی نہیں ہے ۔گرین پارٹی نے اس معاملے پر حکومت کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد پیش کرنے کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی پالیسیوں کی انکوائری کے لیے ایک پارلیمانی کمیشن بنانے کا مطالبہ بھی کیا ہے ۔ اگرچہ اس تحریک کے پاس ہونے کا امکان کم ہے ، لیکن یہ فرانسیسی سیاست دانوں اور عوام میں پائے جانے والے شدید غصے کی عکاسی کرتی ہے ۔اس ہیٹ ویو نے فرانس کے انفراسٹرکچر کی کمزوریوں کو بھی بے نقاب کر دیا ہے ۔ فرانس میں عام طور پر گھروں میں ایئر کنڈیشنر نہیں ہوتے اور زیادہ تر سکول اور سرکاری عمارتیں بھی اس قسم کی شدید گرمی کو برداشت کرنے کے لیے ڈیزائن نہیں کی گئیں۔ وزیر اعظم لیکورنو نے اعتراف کیا کہ ماضی کے مقابلے میں اس بار زیادہ تر اموات لوگوں کے گھروں کے اندر ہوئیں۔دوسری جانب امریکا کے وسطی اور مشرقی حصوں میں شدید گرمی کی لہر نے نظام زندگی متاثر کر دیا ہے ، جہاں 6 کروڑ سے زائد افراد ہیٹ الرٹس کی زد میں ہیں۔حکام نے شکاگو، نیویارک اور واشنگٹن سمیت بڑے شہروں میں کولنگ سنٹرز قائم کر دئیے ہیں ،شہریوں کو احتیاطی تدابیر اپنانے کی ہدایت کی گئی ہے ۔ گرمی کی شدت سے عالمی کھیلوں کے مقابلے بھی متاثر ہو رہے ہیں جبکہ ماہرین نے ہیٹ اسٹروک کے خطرات سے خبردار کیا ہے ۔

 

 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں