اسٹیٹ بینک نے فاریکس مارکیٹ سے 14.7 ارب ڈالر خرید لیے

اسٹیٹ بینک نے فاریکس مارکیٹ سے 14.7 ارب ڈالر خرید لیے

درآمدی ادائیگیوں کے لئے ڈالر دستیاب،زرمبادلہ ذخائر مضبوط ہونگے

کراچی(بزنس رپورٹر)اسٹیٹ بینک نے ملکی معیشت، زرمبادلہ ذخائر اور روپے کی قدر کو مستحکم رکھنے کیلئے غیرملکی زرِ مبادلہ یعنی فارن ایکسچینج مارکیٹ میں اپنی مداخلت کی تازہ ترین تفصیلات جاری کر دی ہیں۔ مرکزی بینک کے مطابق جون 2024ء سے مارچ 2026ء کے دوران اسٹیٹ بینک نے اوپن اور انٹربینک مارکیٹ سے مجموعی طور پر 14 ارب 70 کروڑ ڈالر کی خالص خریداری کی جس کا مقصد ملکی زرمبادلہ ذخائر کو مضبوط بنانا اور درآمدی ادائیگیوں کیلئے ڈالر کی دستیابی کو یقینی بنانا تھا۔ رپورٹ کے مطابق صرف مارچ 2026ء کے دوران مرکزی بینک نے 66 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کی خالص فارن ایکسچینج مداخلت کی جبکہ جنوری سے مارچ 2026ء کی پہلی سہ ماہی میں مجموعی طور پر 2ارب 32کروڑ 80لاکھ ڈالر خریدے گئے جو اس عرصے میں مرکزی بینک کی ڈالر خریداری کی نمایاں سرگرمی کو ظاہر کرتا ہے ۔ مرکزی بینک کے مطابق ان مداخلتوں کا بنیادی مقصد غیرملکی زرِ مبادلہ ذخائر میں اضافہ، بین الاقوامی ادائیگیوں کی صلاحیت کو مضبوط بنانا، فارن ایکسچینج مارکیٹ میں غیرضروری اتار چڑھاؤ کو محدود کرنا اور روپے کی قدر کو بہتر بنیادوں پر مستحکم رکھنا ہے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں