ایرانی سرکاری ٹی وی نے سپیکر قالیباف کا انٹرویو اچانک روکدیا

ایرانی سرکاری ٹی وی نے سپیکر قالیباف کا انٹرویو اچانک روکدیا

ریکارڈنگ 2گھنٹے پہلے دی ، نشریات روکنے پر افسوس ،پارلیمانی میڈیا سنٹر ،شدید تنقید انٹرویو کو دو حصوں میں تقسیم کیا ، دوسراحصہ بعد میں نشر کیا جائیگا:ادارے کی وضاحت جو حصہ نشر نہیں ہوا اس میں منجمد اثاثے ، تعمیرِ نو کریڈٹ جیسے موضوعات شامل تھے

تہران (اے ایف پی)ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن نے منگل کو اعلیٰ مذاکرات کار اور سپیکر باقر قالیباف کا ادھورا انٹرویو نشر کرتے ہوئے اچانک درمیان میں ہی روک دیا، جس پر پارلیمان کی میڈیا ٹیم نے شدید تنقید کی ہے ۔پارلیمنٹ کے میڈیا سنٹرکی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ گفتگو نشر ہونے کے مقررہ وقت سے دو گھنٹے سے بھی زیادہ پہلے ایران براڈکاسٹنگ کے حوالے کر دی گئی تھی، لیکن افسوس ہے کہ نشریات درمیان میں ہی روک دی گئیں۔یہ گفتگو پہلے سے ریکارڈ شدہ تھی، اور اگر آئی آر آئی بی کے حکام نے ضابطہ کار کے برخلاف اس کا کوئی حصہ نشر نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا تو ان کی ذمہ داری تھی کہ وہ اس بارے میں پارلیمنٹ کے میڈیا سنٹر سے رابطہ کرتے ۔سرکاری نشریاتی ادارے نے مو قف اختیار کیا کہ انٹرویو کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے اور اس کا دوسراحصہ بعد میں نشر کیا جائے گا۔پارلیمنٹ کے میڈیا سنٹر کے مطابق جن حصوں کو نشر نہیں کیا گیا، ان میں اقوام متحدہ کے جوہری نگرانی کے ادارے کے معائنے ، ایران کے منجمد اثاثوں اور 300 ارب ڈالر کے تعمیرِ نو کریڈٹ جیسے اہم موضوعات شامل تھے ۔منگل کو سرکاری ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں محمد باقر قالیباف نے کہا کہ اس مفاہمتی یادداشت کے نتیجے میں ایران دوبارہ اپنا تیل فروخت کرنے کے قابل ہوا، کیونکہ امریکا نے آبنائے ہرمز پر اپنی عائد کردہ ناکہ بندی ختم کر دی۔انہوں نے کہاجس دن ناکہ بندی ختم کی گئی، اُس دن سے آج تک ہم 4 کروڑ بیرل سے زائد تیل برآمد کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا اس سے پہلے کے تقریباً 50 سے 60 دنوں کے دوران ہم حقیقتاً ایک بیرل تیل بھی برآمد کرنے کے قابل نہیں تھے ۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں