فرانس :گرمی کے مارے شہری پنکھے ،اے سی خریدتے لڑپڑے

فرانس :گرمی کے مارے شہری پنکھے ،اے سی خریدتے لڑپڑے

خریداروں کا ہجوم ،منٹوں میں سامان ختم ،صورتحال کنٹرول کرنے کیلئے پولیس طلب یورپ میں شدید گرمی، 41 کروڑ افراد درجہ حرارت سے متاثر،ہلاکتیں بڑھ گئیں

پیرس (اے ایف پی ،مانیٹرنگ ڈیسک) فرانس میں شدید گرمی کی لہر کے دوران سپرمارکیٹس میں خریدار پنکھوں اور پورٹیبل ایئر کنڈیشنرز کے حصول کیلئے لڑپڑے جس  کے باعث صورتحال قابو میں لانے کیلئے پولیس کو طلب کرناپڑا ،15 سے 30 جون کے دوران یورپ میں جاری شدید گرمی کی لہر کے دوران 41 کروڑ افراد پر مشتمل علاقے میں کم از کم ایک بار درجہ حرارت 35 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا، یہ تعداد یورپ کی مجموعی آبادی کے دو تہائی سے بھی زیادہ بنتی ہے ۔ تفصیلات کے مطابق فرانس میں ایک سپر سٹور چین کی جانب سے ملک بھر میں 2 لاکھ پنکھے اور پورٹیبل ایئر کنڈیشنرز فروخت کیلئے پیش کرنے کا اعلان کیا گیاتو خریداروں کا ہجوم امڈ آیا اور لوگ صبح سویرے ہی قطاروں میں کھڑے ہوگئے ۔پیرس کے مغربی علاقے نانتیئر میں واقع ایک سٹور پر دروازے کھلتے ہی 100 سے زائد افراد اندر داخل ہو گئے ۔ اس دوران خریداروں کے درمیان سامان حاصل کرنے کیلئے جھگڑے بھی ہوئے اور صرف تقریباً 10 افراد ہی پنکھا یا ایئر کنڈیشنر خریدنے میں کامیاب ہو سکے ۔ایک اور سٹور میں چند منٹوں کے اندر تمام شیلف خالی ہو گئے جبکہ آخری چند ڈبوں پر خریداروں کے درمیان لڑائی بھی ہوئی۔ایسے واقعات کے تدارک کیلئے پولیس کو بھی طلب کرناپڑا۔شدید گرمی کی لہر کے دوران بیلجیم میں 18 سے 29 جون کے درمیان اموات کی تعداد معمول کے مقابلے میں 39 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی جبکہ فرانس میں 22 جون سے شروع ہونے والے ہفتے میں اموات کی تعداد میں تقریباً 30 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں