ٹیکنالوجی میں چینی پیش رفت نے خلائی دوڑ کا نقشہ بدل دیا
چاند پر جانے کی دوڑ ، امریکا چین آمنے سامنے ،جدید سائنسی تحقیق میں بیجنگ آگے دنیا کے 10سرفہرست تحقیقی اداروں میں سے 9کاچین سے تعلق :سائنسی جریدہ تحقیق میں چین دنیا میں پہلے نمبر پر آ چکا ، امریکا دوسرے ، جرمنی تیسرے نمبر پر
بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک)جدید ٹیکنالوجی اور سائنسی تحقیق کے میدان میں چین کی تیزی سے بڑھتی ہوئی برتری عالمی خلائی دوڑ کو نئی شکل دے رہی ہے ۔ اس شعبے میں بیجنگ اب عالمی سطح پر امریکا کا سب سے بڑا حریف بنتا جا رہا ہے ۔چین کی پہلی خاتون سویلین خلاباز لائی کائی ینگ اس وقت چین کے خلائی اسٹیشن تیان گونگ پر اپنے دو ساتھی خلابازوں کے ساتھ موجود ہیں، جہاں وہ روزانہ زمین کے گرد 16 چکر لگاتی ہیں۔ماہرین کے مطابق خلائی تحقیق ایک بار پھر نظریاتی اور جغرافیائی سیاسی مسابقت کا میدان بن چکی ہے ، تاہم 20 ویں صدی کی امریکا اور سوویت یونین کی خلائی دوڑ کے برعکس اب واشنگٹن کا اصل حریف بیجنگ ہے ۔ ناسا نے بین الاقوامی خلائی سٹیشن کو 2032 تک ریٹائر کرنے کا منصوبہ بنایا ہے ۔ اس کے بعد چین دنیا کا واحد ملک ہو گا جو مستقل بنیادوں پر اپنے عملے کے ساتھ خلائی سٹیشن چلا رہا ہو گا۔سائنسی جریدے نیچر کے تازہ ترین تحقیقی اشاریے کے مطابق جدید تحقیق میں چین دنیا بھر میں پہلے نمبر پر آ چکا ہے ،
جبکہ امریکا دوسرے اور جرمنی تیسرے نمبر پر ہے ۔دنیا کے 10 سرفہرست تحقیقی اداروں میں سے 9 چین سے تعلق رکھتے ہیں، جبکہ امریکا کی ہارورڈ یونیورسٹی تیسرے نمبر پر ہے ۔ جرمنی کے معروف تحقیقی ادارے ماکس پلانک انسٹیٹیوٹ کو اس فہرست میں 13 واں مقام حاصل ہوا۔ماکس پلانک سوسائٹی کی ترجمان کرسٹینا بیک کے مطابق اب تقریباً تمام عالمی درجہ بندیوں میں چینی یونیورسٹیاں اور تحقیقی ادارے متعدد شعبوں میں قیادت کر رہے ہیں۔جرمن ریسرچ فاؤنڈیشن کے انفارمیشن مینجمنٹ کے سربراہ رچرڈ ہائیڈلر کے مطابق گزشتہ دو دہائیوں میں چین نے سائنسی تحقیق کے شعبے میں مسلسل سرمایہ کاری کی ہے ۔ماہرین کے مطابق چین نے یونیورسٹیوں، تحقیقی اداروں، بین الاقوامی تربیت اور جدید تحقیقی انفراسٹرکچر میں طویل المدتی سرمایہ کاری کے ذریعے یہ مقام حاصل کیا ہے ۔امریکا اور چین اس وقت نئی جنریشن کے مون مشنز کے حوالے سے آپس میں سخت مقابلہ بازی میں مصروف ہیں۔چین نے 2030 تک انسان بردار قمری مشن بھیجنے کا ہدف مقرر کیا ہے ، جبکہ امریکا کا آرٹیمس پروگرام 2028 میں چاند کے جنوبی قطب کے قریب اپنے خلانورد اتارنے کا منصوبہ رکھتا ہے ،
تاہم اس منصوبے میں اسے ممکنہ تاخیر کا سامنا ہے ۔چین مستقبل میں جامع خلائی مشنز کے لیے چاند پر اپنا مستقل تحقیقاتی اڈہ بھی قائم کرنا چاہتا ہے ۔اسی مقصد کے تحت چین دنیا کا واحد ملک بن چکا ہے جس نے چاند کے دور والے حصے سے چٹانوں کے نمونے حاصل کئے ہیں، جن کا جائزہ مستقبل کی قمری بستی کی تعمیر میں ممکنہ استعمال کے لئے لیا جا رہا ہے ۔چین اپنے خلائی پروگرام کو سفارتی تعلقات مضبوط بنانے کے لیے بھی استعمال کر رہا ہے ۔لائی کائی ینگ کے مشن کی تکمیل کے بعد چین رواں سال اکتوبر میں اپنے خلائی سٹیشن پر پہلے غیر ملکی خلا باز کی میزبانی کرے گا۔اس مشن کے لیے پاکستان کے دو امیدوار اس وقت تربیت حاصل کر رہے ہیں، جن میں سے ایک کو اس خلائی مشن کے لیے منتخب کیا جائے گا۔یہ پیش رفت اس بات کی علامت ہے کہ عالمی جغرافیائی اتحاد اب زمین تک محدود نہیں رہے اور چین اپنے قریبی شراکت دار ممالک کو بھی اپنے بڑھتے ہوئے خلائی پروگرام کا حصہ بنا رہا ہے ۔