اسرائیل میں بڑھتے جرائم، عرب بچوں کی زندگیاں شدید متاثر

اسرائیل میں بڑھتے جرائم، عرب بچوں کی زندگیاں شدید متاثر

رواں سال اب تک 140 سے زائد عرب شہری جرائم کے واقعات میں ہلاک اسرائیلی فوجی سربراہ ایال کا حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان اسرائیل نے پہلی بار سلووینیا میں روتھ کوہن ڈار کومستقل سفیر تعینات کر دیا

یرو شلم(اے ایف پی)اسرائیل کی عرب آبادی میں بڑھتے ہو ئے پرتشدد جرائم نے بچوں کی زندگیوں پر گہرے منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق رواں سال اب تک 140 سے زائد عرب شہری جرائم کے واقعات میں ہلاک ہو چکے ہیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 12 فیصد زیادہ ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جرائم، خاندانی دشمنیوں، اسلحے کی آسان دستیابی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کمزور کارروائیوں کے باعث سینکڑوں بچے والدین سے محروم ہو رہے ہیں۔ فلاحی اداروں کے مطابق ایسے بچوں میں تعلیم چھوڑنے ، نفسیاتی مسائل اور جرائم کی طرف مائل ہونے کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے ۔اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے اتوار کو جنوبی لبنان میں واقع تاریخی بفورٹ قلعے کے دورے کے دوران کہا کہ اسرائیل حزب اللہ کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھے گا۔

زامیر نے فوجیوں سے کہا کہ اگر جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوئی تو وہ فوری طور پر جارحانہ کارروائیوں کے لیے تیار رہیں ۔ واضح رہے اسرائیلی افواج نے تاریخی قلعے اور اس کے اطراف کے علاقے پر قبضہ کیا ہے جسے اسرائیلی فوج ایک اہم سٹرٹیجک مقام قرار دیتی ہے ۔اسرائیل نے سلووینیا میں پہلی بار مستقل سفیر تعینات کرنے کا اعلان کرتے ہوئے دونوں ممالک کے تعلقات میں نئے دور کے آغاز کا اشارہ دیا ہے ۔ اسرائیلی وزارت خارجہ کے مطابق روتھ کوہن ڈار کو لیوبلیانا میں اسرائیل کی پہلی مستقل سفیر مقرر کیا گیا ہے ۔ یہ پیش رفت سلووینیا میں نئی قدامت پسند حکومت کے قیام کے بعد سامنے آئی ہے ، جس نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں