بھارت بھر میں آج مظاہرے ،دہلی ،بند خصوصی عدالتیں مسترد
ہزاروں افراد کا جنتر منتر پر احتجاج جاری ،وزیر تعلیم کے استعفے کا مطالبہ برقرار،مظاہرے رانچی، پونے ، کولکتہ تک پھیل گئے دہلی میں میٹروسٹیشنز ، انٹرنیٹ سروسز بند، فون کے ذریعے ڈیجیٹل ادائیگیاں رک گئیں،کاروباری سرگرمیاں بھی محدود بالی ووڈ ستاروں کی مظاہرین کی حمایت، طلبا کو ایک مقصد کیلئے متحد ہوتے دیکھنا حوصلہ افزا :سلمان خان، عالیہ بھٹ ،کرینہ
نئی دہلی (رائٹرز)بھارت کے نوجوان مظاہرین نے جمعہ کو ملک گیر مظاہروں کی اپیل کی ہے ، وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت نے ان سے مذاکرات میں شامل ہونے کی درخواست کی ہے ، جبکہ مرکزی دہلی میں میٹرو سٹیشنز اور موبائل انٹرنیٹ سروسز بند کر کے کاروباری سرگرمیاں محدود کر دی گئی ہیں۔نوجوان مظاہرین، جن کی قیادت خود کو "کاکروچ جنتا پارٹی" کہنے والی تحریک کر رہی ہے ، مئی میں میڈیکل کے داخلہ ٹیسٹ (NEET) کے کاغذات افشا ہونے کے معاملے پر وزیر تعلیم کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ جمعرات کی دوپہر تک ہزاروں افراد سخت سکیورٹی کی موجودگی میں حکومت مخالف پوسٹر اٹھائے اور نعرے بازی کرتے ہوئے دوبارہ جنتر منتر کے احتجاجی مقام پر جمع ہو گئے ۔ مظاہرے دیگر شہروں جیسے رانچی، پونے ، تھروواننت پورم اور کولکتہ میں بھی پھیل گئے ۔ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ حکومت نے ٹیلی کام کمپنیوں کو علاقے میں موبائل انٹرنیٹ سروسز بلاک کرنے کا بھی حکم دیا، جس سے نہ صرف مظاہرین متاثر ہوئے بلکہ دکانوں اور ریستورانوں میں فون کے ذریعے ڈیجیٹل ادائیگیاں بھی رک گئیں۔اس سے قبل جمعرات کو مودی نے کہا کہ امتحان کے پیپر لیک کرنے والوں کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے خصوصی عدالتیں قائم کی جائیں گی، جو اس بحران پر ان کا پہلا عوامی ردعمل تھا۔لیکن کاکروچ جنتا پارٹی نے اس تجویز کو یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا کہ پیپر لیک کے بعد عدالتیں کیا کرتی ہیں، یہ مسئلے کا صرف ایک پہلو ہے ۔بالی ووڈ کے سرفہرست ستاروں سلمان خان، عالیہ بھٹ اور کرینہ کپور نے سوشل میڈیا پوسٹس کے ذریعے مظاہرین کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ طلبا کو ایک مقصد کے لیے متحد ہوتے دیکھنا حوصلہ افزا ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments