بہار:احتجاجی طلبہ پر پولیس کا وحشیانہ تشدد،متعددگرفتار
مظاہرین کے پاس آن لائن ایپس کے ذریعے کھانا باقاعدگی سے پہنچ رہا ہے کھانابھیجنے والے کبھی نئی دہلی کے احتجاجی مقام پر گئے نہ ایک دوسرے کوجانتے
پٹنہ،نئی دہلی (اے پی پی)بھارتی ریاست بہارمیں پولیس نے احتجاج کے دوران طلبہ پر لاٹھی چارج سمیت طاقت کاوحشیانہ استعمال کیا اور متعدد نوجوانوں کو گرفتار کرلیا۔ پٹنہ اور کٹیہار اضلاع سمیت کئی مقامات پر طلبا نے زبردست احتجاجی مظاہرے کئے اور وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفی ٰکا مطالبہ اور نئی دہلی میں طلبا کے خلاف پولیس کی کارروائی کی مذمت کی۔پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھیاں برسائیں اور پٹنہ کالج، یونیورسٹی کیمپس کے ارد گرد اور کٹیہار ضلع کے شہید چوک پر مظاہروں کے دوران متعدد طلبا کو حراست میں لے لیا۔ادھر اردو نیوز نے بتایا کہ بھارت بھر سے کاکروچ جنتا پارٹی کے حامی آن لائن فوڈ ڈلیوری ایپس کے ذریعے کھانے کا آرڈر دے کر دارالحکومت نئی دہلی میں دھرنا دئیے ہوئے مظاہرین کی مدد کر رہے ہیں جس سے کاکروچ تحریک کو تقویت مل رہی ہے ،کھانے کی یہ مسلسل آمد اس بات کی واضح علامت بن چکی ہے کہ نوجوانوں کی یہ تحریک تیزی سے حمایت حاصل کر رہی اور وزیرِاعظم نریندر مودی کی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن کر ابھری ہے ۔کھانا بھیجنے والے بہت سے لوگ کبھی نئی دہلی کے احتجاج کے مقام پر نہیں گئے اور نہ ہی ایک دوسرے کو جانتے ہیں، وہ براہِ راست مظاہرین کے لیے کھانا بھیج دیتے ہیں اور اکثر ڈلیوری رائیڈرز کو ہدایت دیتے ہیں کہ وہ یہ کسی بھی مظاہرہ کرنے والے کے حوالے کر دیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments