آبنائے ہرمز میں بحری تجارت کیلئے رضا کارانہ فیس کا نظام :عمان نےایران کو منصوبہ پیش کر دیا
نئے فارمولے کی بنیادآبنائے مالاکاکا نظام، خلیجی ممالک حامی،تہران کی ایک طرفہ بحری ٹریفک کا نظام خود سنبھالنے کچھ حصہ مسقط کو دینے کی پیشکش ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا عمانی اور سعودی ہم منصبوں کے ساتھ ٹیلی فونک رابطہ،استحکام کیلئے مشترکہ سفارتی اقدامات آگے بڑھانے پر اتفاق
مسقط /دبئی (نیوز ایجنسیاں )خلیج میں جاری تناؤ کو کم کرنے اور عالمی معیشت کے لیے اہم ترین تجارتی راہداری کو دوبارہ بحال کرنے کے لیے خلیجی تعاون کونسل نے ایک بڑا سفارتی قدم اٹھایا ہے ۔ عمان نے ایران کو ایک خلیجی حمایت یافتہ منصوبہ پیش کیا ہے جس کے تحت آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں سے رضاکارانہ فیس کی وصولی کا نظام بنانے کی تجاویز دیگئی ہیں۔رائٹرز کے مطابق عمانی تجاویز کا بنیادی مقصد آبنائے ہرمز پر ایران کا یکطرفہ اور اجارہ دارانہ کنٹرول ختم کرنا ہے ، کیونکہ واشنگٹن کسی بھی قسم کی زبردستی یا لازمی فیس کو غیر قانونی قرار دیتا ہے ۔ اس نئے فارمولے کی بنیاد ایشیا کی 'آبنائے مالاکا' کے نظام پر رکھی گئی ہے ، جہاں انڈونیشیا، ملائیشیا اور سنگاپور جہاز رانی، ماحولیاتی تحفظ اور ریسکیو آپریشنز کے لیے جہازوں سے اختیاری عطیات یا فیسیں لیتے ہیں۔ ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ تہران نے پیشکش کی ہے کہ وہ ایک طرفہ بحری ٹریفک کا انتظام خود سنبھالے گا، جبکہ دوسری طرف کی راہداری کا کچھ حصہ مسقط کے کنٹرول میں ہو۔خلیج میں بحری تجارت کے تحفظ اور امریکی کارروائیوں سے پیدا ہونے والی کشیدگی کے خاتمے کے لیے ایران، عمان اور سعودی عرب کے درمیان اعلیٰ سطح کے سفارتی روابط میں غیر معمولی تیزی آ گئی ہے ۔ ایرانی خبر رساں ادارے اور سرکاری ٹی وی کے مطابق، ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے عمانی اور سعودی ہم منصبوں کے ساتھ الگ الگ ٹیلی فونک گفتگو کی ہے ۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی، عمانی وزیر خارجہ بدر البوسعیدی اور سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان کے درمیان ہونے والی اس گفتگو میں خطے میں استحکام کی بحالی اور مشترکہ سفارتی اقدامات کو آگے بڑھانے پر زور دیا گیا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments