مصر کیلئے وارننگ کہ غیر جانبداری تحفظ کی ضمانت نہیں

 مصر کیلئے وارننگ کہ غیر جانبداری تحفظ کی ضمانت نہیں

دمیاط بندرگاہ پر ڈرون حملہ امریکی مفادات کیلئے انتہائی خطرناک پیغام ہو سکتا محفوظ بحری راستوں کو خطرہ لاحق ،امریکی اثاثے خلیج سے باہر بھی غیر محفوظ حملے کا مقصد مصر کو امریکا اور ایران کے تنازع میں گھسیٹنا ہو سکتا ہے :تجزیہ کار

قاہرہ (اے ایف پی)تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مصر کی دمیاط بندرگاہ پر ہونے والا ڈرون حملہ جو امریکا ایران جنگ چھڑنے کے بعد سے مصری سرزمین پر پہلا حملہ ہے ۔مشرقِ وسطیٰ میں ہر جگہ امریکی مفادات کے لیے ایک انتہائی خطرناک پیغام ہو سکتا ہے ۔بحرِ روم کی اس بندرگاہ پر ہونے والے حملے کی کسی تنظیم نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے اور نہ ہی مصر نے اس کا الزام کسی پر عائد کیا ہے ، جس میں ایک امریکا کی ملکیت اور زیرِ انتظام گیس ذخیرہ کرنے والے فلوٹنگ جہاز کو نشانہ بنایا گیا۔ قطعِ نظر اس کے کہ یہ حملہ کس نے کیا؟حملے کا مقصد مصر کو اس تنازع میں گھسیٹنا ہو سکتا ہے ، کیونکہ قاہرہ مہینوں سے ایران اور امریکا کے درمیان چند سفارتی راستوں میں سے ایک کا کردار ادا کر رہا تھا ۔یہ بندرگاہی حملہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے خلیج سے دور ترین مقام پر ہوا ہے ، جو کہ بحرِ احمر کو عبور کر کے بحرِ روم تک پہنچنے کا ایک نیا سنگِ میل ہے ، جس سے ان بحری راستوں کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے جنہیں اب تک محفوظ تصور کیا جا رہا تھا۔بحرِ روم کی بندرگاہ دمیاط ایران سے 1300کلومیٹر سے زائد اور یمن سے 2000 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے ۔اس حملے کے نتیجے میں امریکا کی ملکیت والے "انرجوس ونٹر"نامی اسٹوریج اور ریگی سیفکیشن جہاز اور اس کے ساتھ بندھے یونانی ملکیت کے "گیس لاگ سیلم" ٹینکر میں آگ لگ گئی۔ اتنے فاصلے کا مطلب ہے کہ "اس بات کا امکان کم ہے کہ ایران نے ایرانی سرزمین سے براہِ راست مصر پر حملہ کیا ہو۔تاہم یہ ممکن ہے کہ تہران کے علاقائی اتحادیوں نے ایسا کیا ہو، جیسے یمن میں حوثی یا عراق میں ایران سے ملحقہ ملیشیا۔

لبنان میں حزب اللہ400کلومیٹر سے بھی کم فاصلے کے ساتھ اس بندرگاہ کے سب سے قریب ہے ۔لیکن قاہرہ یونیورسٹی کے پروفیسر برائے سیاسیات مصطفی کامل السید کا ماننا ہے کہ حزب اللہ اتنی "عقلمند" ہے کہ وہ سب سے بڑی عرب فوج سے پنگا نہیں لے گی۔اگرچہ امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے دوران خطے میں دیگر جگہوں پر توانائی کی تنصیبات کو ڈرونز اور میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا ہے ، لیکن مصر اب تک اس سے محفوظ رہا تھا۔ ایک تجزیہ کار کے مطابق میں اسے خود بخود مصر پر حملے کے طور پر تعبیر نہیں کروں گا، انہوں نے مزید کہا کہ اس کا مقصد یہ دکھانا تھا کہ امریکی اثاثے خلیج سے باہر بھی غیر محفوظ ہیں۔ مصر کے لیے یہ ایک تنبیہ ہے کہ غیر جانبداری تحفظ کی ضمانت نہیں دیتی۔اس سال مصری بندرگاہوں نے خلیج سے موڑے گئے تجارتی راستوں کا ایک بڑا حصہ سنبھالا ہے ، کیونکہ بڑی شپنگ کمپنیوں نے آبنائے ہرمز اور خلیج سے بچنے کی کوشش کی ہے ۔لیکن وہ متبادل راستہ مصری بحری راستوں اور خاص طور پر بحرِ روم کی حفاظت پر منحصر ہے ۔ اعداد و شمار کے مطابق، جنگ چھڑنے کے بعد سے سعودی خام تیل کی برآمد کے لیے بحرِ احمر کے راستے کو آخری نسبتاً محفوظ سمجھا جاتا ہے ،اگرچہ مہنگا راستہ ہے ۔ باب المندب کو عبور کرنے والے جہازوں پر حوثیوں کے حالیہ حملوں کے بعد مزید جہاز نہرِ سویز اور مصری زمینی پائپ لائن کا استعمال کر رہے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...