بنگلہ دیش :جبری گمشدگی پر سزائے موت کی تجویز پیش
متاثرہ خاندانوں کو مجرموں کی جائیداد سے معاوضہ دینے کی شق بھی شامل جبری گمشدگی روک تھام و ازالہ بل کو قانون بننے کیلئے پارلیمانی منظوری درکار شیخ حسینہ دور حکومت میں 1569واقعات ریکارڈ ،251افراد تاحال لاپتا
ڈھاکہ (اے ایف پی)بنگلہ دیش کی حکومت نے جبری گمشدگی کے جرم پر سزائے موت کی تجویز پیش کر دی ہے ،جبری گمشدگی کی روک تھام اور ازالہ ایکٹ کے نام سے مجوزہ بل کو قانون بننے کیلئے پارلیمنٹ سے منظوری حاصل کرنا ہوگی۔ یہ اقدام ایک سرکاری تحقیقاتی رپورٹ سامنے آنے کے بعد کیا گیا، جس میں معزول سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کے 17 سالہ دور حکومت کے دوران جبری گمشدگی کے ڈیڑھ ہزار سے زائد واقعات ریکارڈ کیے گئے ۔سرکاری تحقیقاتی کمیشن کے مطابق شیخ حسینہ کے 17 سالہ دور حکومت میں جبری گمشدگی کے ایک ہزار 569 واقعات ریکارڈ ہوئے ، جن میں 251 افراد تاحال لاپتا ہیں اور انہیں ہلاک تصور کیا جا رہا ہے ۔ بی این پی کے سربراہ اور موجودہ وزیراعظم طارق رحمان نے فروری 2026 کے انتخابات کے دوران وعدہ کیا تھا کہ وہ شیخ حسینہ کے دور سے منسوب ریاستی سرپرستی میں ہونے والے تشدد کا خاتمہ کریں گے ۔کابینہ کے بیان کے مطابق مسودے کی منظوری کے بعد فیصلہ کیا گیا ہے کہ اگر جبری گمشدگی کے نتیجے میں کسی شخص کی موت واقع ہو تو اس جرم کی سزا سزائے موت تک دی جا سکے گی۔مجوزہ قانون میں یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ متاثرین کے خاندانوں کو سزا یافتہ مجرموں کی جائیداد سے معاوضہ ادا کیا جائے ۔واضح رہے 78 سالہ شیخ حسینہ جولائی 2024 میں طلبا تحریک کی کامیابی کے بعد پڑوسی ملک بھارت میں روپوش ہیں۔ انہیں 2025 میں ڈھاکہ کی ایک عدالت نے انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمے میں غیر موجودگی میں مجرم قرار دیتے ہوئے پھانسی کی سزا سنائی تھی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments