یمنی حوثیوں کا سعودی عرب پر حملہ،ایک پاکستانی سمیت 11زخمی ،تیل مزید مہنگا

یمنی حوثیوں کا سعودی عرب پر حملہ،ایک پاکستانی سمیت 11زخمی ،تیل مزید مہنگا

تہران کی دشمن جہازوں کو ہرمز میں روکنے ، قواعد کی خلاف ورزیوں پر 20فیصد جرمانے کی تجویز،جنگ جلد ختم ہو جائیگی:ٹرمپ ایرانی دفاعی ٹیکنالوجی خطے میں بہترین:قائم مقام وزیر دفاع،وعدے پورے کریں، مزید ڈرامائی سفارت کاری قبول نہیں:قالیباف

ریاض،تہران،واشنگٹن(نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک)یمن کے حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے جنوبی صوبہ نجران پر حملہ کیا جس میں 11 شہری زخمی ہو گئے ۔سعودی عسکری اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کے مطابق حوثی باغیوں کے حملہ کے زخمیوں میں 7 سعودی شہری، ایک یمنی، 2 مصری اور ایک پاکستانی شہری شامل ہیں جبکہ متاثرین میں چار سالہ بچہ بھی شامل ہے ۔انہوں نے کہا کہ حوثی باغیوں نے شہری آبادی کو اندھا دھند نشانہ بنایا، یہ بین الاقوامی انسانی قوانین کی خلاف ورزی ہے ،شہریوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے جائیں گے ۔ادھر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق خدشات کے باعث تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا ہے ۔ایران نے عمان کے ساتھ مل کر تجویز دی ہے کہ جن بحری جہازوں کو دشمن قرار دیا جائے انہیں آبنائے ہرمز سے گزرنے سے روکا جائے جبکہ مجوزہ قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے جہازوں پر ان کے سامان کی مالیت کا 20 فیصد تک جرمانہ عائد کیا جائے ۔برینٹ خام تیل کے فیوچر معاہدوں کی قیمت 85 سینٹ (1.03 فیصد) بڑھ کر 83.34 ڈالر فی بیرل ہو گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کے فیوچر 52 سینٹ (0.67 فیصد) اضافے کے ساتھ 77.81 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے ۔

گزشتہ روز تیل کی قیمتیں 3 ڈالر فی بیرل سے زیادہ اضافے کے ساتھ بند ہوئیں، جب ایک ایرانی رکنِ پارلیمان نے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی ایک ابتدائی مسودۂ قانون کا جائزہ لے رہی ہے ۔عالمی شپنگ انڈسٹریز کے ذرائع نے کہا کہ ایران اور عمان کے درمیان زیر غور آبنائے ہرمز معاہدے پر عملدرآمد امریکی پابندیوں اور انشورنس سے متعلق سخت شرائط کے باعث انتہائی مشکل ہوگا۔عالمی شپنگ تنظیموں نے اس تجویز پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے پر لازمی فیس یا ٹول عائد کرنا بین الاقوامی بحری قوانین کے خلاف ایک خطرناک نظیر قائم کرے گا۔تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہیں یقین ہے ایران کے ساتھ جاری جنگ جلد ختم ہو جائے گی کیونکہ ایران زیادہ دیر تک یہ جنگ جاری رکھنے کی پوزیشن میں نہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا مجھے نہیں لگتا کہ ایران زیادہ دیر تک اس جنگ کا بوجھ اٹھا سکے گا۔انہوں نے اعتراف کیا کہ امریکی فوج کو بعض اقسام کے ہتھیاروں کی دستیابی میں مشکلات کا سامنا ہے تاہم جدید اسلحہ کے ذخائر لامحدود ہیں، کچھ ہتھیاروں کی مقدار محدود ہے ۔

قائم مقام ایرانی وزیر دفاع مجید ابن الرضا نے کہا کہ ایران کی مقامی دفاعی ٹیکنالوجی علاقائی ممالک میں سب سے بہترین ہے ، خطے کے ممالک کو جلد اندازہ ہو جائے گا۔انہوں نے کہا دشمن کی طاقت زوال پذیر ہے ، کچھ ممالک درآمد شدہ ہتھیاروں اور بیرونی سکیورٹی پر انحصار کر رہے ہیں۔ایرانی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل امیر اکرمینیا کا کہنا ہے ایرانی فوج ہر قسم کے خطرات سے نمٹنے کیلئے مکمل طور پر تیار ہے ، حملے سے متاثرہ نظام کو جدید بنایا جا رہا ہے ۔ایرانی سپیکر باقر قالیباف نے دھونس اور جھوٹی خبروں کی حکمت عملی ناکام قرار دے دی۔انہوں نے ایکس پر بیان میں کہا کہ حقائق تسلیم کریں، وعدے پورے کریں، مزید ڈرامائی سفارت کاری قبول نہیں، انہوں نے حملے کی دھمکیوں کو ڈرامائی سفارت کاری قرار دے دیا۔باقر قالیباف نے مزید کہا کہ دنیا کو ڈرامے نہیں، ذمہ دار سفارت کاری کی ضرورت ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...