نیتن یاہو کے ’’اسلامی جمہوریہ‘‘کہنے پر برطانیہ برہم، بیان ناقابل قبول قرار

نیتن یاہو کے ’’اسلامی جمہوریہ‘‘کہنے  پر برطانیہ برہم، بیان ناقابل قبول قرار

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک)برطانوی حکومت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی جانب سے برطانیہ کو ’’اسلامی جمہوریہ‘‘ قرار دینے والے بیان پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

برطانیہ نے نیتن یاہو کے ریمارکس کو مکمل طور پر ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاملہ اسرائیلی حکومت کے سامنے باضابطہ طور پر اٹھایا گیا ہے ۔نیتن یاہو نے ایک پوڈکاسٹ انٹرویو کے دوران برطانیہ کی موجودہ پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ماضی میں برطانوی صحافیوں نے 1967 کی چھ روزہ جنگ کے دوران اسرائیل کے بارے میں مثبت رپورٹنگ کی، تاہم ان کے بقول آج کے برطانیہ میں ایسا رویہ نظر نہیں آتا۔اسی گفتگو میں انہوں نے برطانیہ کو اسلامی جمہوریہ سے تشبیہ دی، جس پر برطانوی حکومت نے شدید اعتراض کیا۔

نیتن یاہو کا تازہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب برطانیہ اور اسرائیل کے درمیان غزہ کی جنگ اور فلسطینی ریاست کے معاملے پر اختلافات میں اضافہ ہوا ہے ۔برطانیہ کے موجودہ وزیراعظم اینڈی برنہم نے بھی اسرائیل کے حوالے سے اپنی حکومت کی پالیسی کو زیادہ سخت بنانے کے اشارے دئیے ہیں۔انہوں نے ماضی میں کہا تھا کہ برطانیہ اسرائیلی مقبوضہ علاقوں کی بستیوں سے آنے والی بعض اشیا کی تجارت پر پابندی کے امکان پر غور کرسکتا ہے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...