سپین، یونان اور بیلجیم میں جنگلاتی آگ بے قابو
ہسپانوی علاقے آراگون میں تاریخ کا سب سے بڑا فائر فائٹنگ آپریشن شروع یونان میں 2افراد ہلاک ،بیلجیم میں 3 ہزار ہیکٹر رقبہ آگ کی لپیٹ میں آگیا
میڈرڈ،ایتھنز،بیلن(اے ایف پی)یورپ کے متعدد ممالک میں جنگلاتی آگ بے قابو ہو گئی، شدید گرمی اور خشک موسم کے باعث آگ نے وسیع رقبے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، سپین، اٹلی، یونان اور بیلجیم سمیت مختلف ممالک میں فائر فائٹرز آگ بجھانے میں مصروف ہیں، کئی علاقوں سے شہریوں کا انخلا بھی کرایا گیا۔ متعدد مقامات پر فوجی اہلکار، ہیلی کاپٹرز اور طیارے بھی امدادی کارروائیوں میں شامل ہیں، جبکہ تیز ہواؤں کے باعث آگ پر قابو پانے کی کوششوں میں مشکلات کا سامنا ہے ۔ سپین کے علاقے آراگون میں حکام نے جنگلاتی آگ پر قابو پانے کیلئے تاریخ کا سب سے بڑا فائر فائٹنگ آپریشن شروع کردیا، فرانس سے 100 فائر فائٹرز بھی مدد کیلئے پہنچ رہے ہیں۔ آگ سے ایک ہزار سال قدیم سان خوان دے لا پینا خانقاہ کو خطرہ لاحق ہے ۔ آگ 16 ہزار 600 ہیکٹر رقبے تک پھیل چکی، جس پر قابو پانے کیلئے ایک ہزار فائر فائٹرز اور 35 سے 40 طیارے آپریشن میں حصہ لیں گے ۔
آس پاس کے دیہات سے ایک ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے ۔ یونان کے دارالحکومت ایتھنز کے قریب واقع جزیرے سلامس میں اتوار کو بیک وقت بھڑکنے والی آگ کے واقعات میں 2 افراد ہلاک ہوگئے ۔ بیلجیم میں جدید دور کی سب سے بڑی جنگلاتی آگ پر قابو پانے کیلئے فوجی ہیلی کاپٹروں اور مقامی کسانوں سمیت سینکڑوں فائر فائٹرز نے آپریشن تیز کردیا ہے ۔ ہائی فینز کے جنگلاتی علاقے میں دو روز قبل شروع ہونے والی آگ اب 3 ہزار ہیکٹر رقبے تک پھیل چکی ہے ۔ حکام کے مطابق صورتحال اب بھی مشکل ہے ۔ امدادی کارروائیوں میں نیدرلینڈز سے پانی لے جانے والے چنوک ہیلی کاپٹر بھی حصہ لے رہے ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments