ایران جنگ امریکی اڈوں کے مستقبل پر سوالیہ نشان ثابت

ایران جنگ امریکی اڈوں کے مستقبل پر سوالیہ نشان ثابت

ایرنی حملوں سے واضح ایران کے قریب یہ بڑے فوجی اڈے کس قدر کمزور ہیں امریکا اپنے فوجی اور طیارے دور دراز منتقل کرنے پر مجبور ہوگیا:برطانوی اخبار

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک)برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے لکھا ہے کہ ایران کے ساتھ 6 ماہ کی جنگ نے مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی اڈوں کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے ۔برطانوی اخبار کے مطابق 4 دہائیوں سے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی موجودگی خلیج کے مختلف ممالک میں پھیلے ہوئے بڑے فوجی اڈوں کے وسیع نیٹ ورک پر قائم رہی ہے لیکن ایران نے امریکی تنصیبات پر مختصر فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں اور ڈرونز سے شدید حملے کیے جس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ ایران کے ساحلوں کے اتنے قریب واقع یہ بڑے فوجی اڈے کس قدر کمزور ہیں۔ایران نے امریکا کو مجبور کر دیا کہ وہ اپنے فوجیوں اور طیاروں کو ایرانی حملوں کی زد سے باہر اسرائیل، اردن اور دیگر دور دراز مقامات پر منتقل کرے ، جنگ کے دوران امریکا نے کچھ افواج اسرائیل اور اردن منتقل کی ہیں، اس کے علاوہ امریکی طیاروں اور ڈرونز نے یورپ میں موجود فوجی اڈوں سے بھی پروازیں کی ہیں۔اسرائیلی فوجی انٹیلی جنس کے سابق عہدیدار کا کہنا ہے کہ ایران ایسے درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں پر زیادہ سرمایہ کاری کرے گا جو اردن اور اسرائیل کو نشانہ بنا سکیں۔اخبار کے مطابق خلیجی اتحادیوں کے ساتھ امریکا کا تیل کے بدلے سکیورٹی کا معاہدہ گزشتہ کئی دہائیوں میں بدلتا رہا ہے ، بعض خلیجی ممالک اب اپنی سکیورٹی کیلئے امریکا کے علاوہ دیگر ممالک کے ساتھ بھی تعلقات بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...