ایران کا آبنائے ہرمز میں امریکی آبدوز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

ایران کا آبنائے ہرمز میں امریکی آبدوز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

امریکی حملوں کے جواب میں مزید تیز ،سخت کارروائی کی جائیگی:باقر قالیباف ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا سعودی و ترک ہم منصبوں سے ٹیلیفونک رابطہ ایران جنگ میں شریک امریکی طیارہ بردار جہاز ابراہم لنکن تھائی لینڈ سے روانہ

تہران،ریاض،بینکاک(اے ایف پی) ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے امریکی بحریہ کی ایک آبدوز کو نشانہ بنایا ہے ، جسے  ریموٹ کے ذریعے چلایا جا رہا تھا۔پاسدارانِ انقلاب نے ایک بیان میں کہا کہ یہ آبدوز آبنائے ہرمز کے محفوظ علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کر رہی تھی۔اس سے قبل ہفتے کو رات گئے پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے کہا تھا کہ انھوں نے آبنائے ہرمز میں غیر مجاز راستوں سے گزرنے والے تین آئل ٹینکروں اور دیگر علاقوں میں موجود تین امریکی بحری جہازوں کو نشانہ بنایا۔ایران نے اسے امریکی افواج کی جانب سے تین ایرانی ٹینکروں پر کیے گئے حملوں کا جواب قرار دیا تھا۔ تاہم امریکہ نے ان حملوں پر تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے امریکی حملوں کے جواب میں مزید تیز اور سخت کارروائی کی دھمکی دے دی۔ قالیباف نے کہا امریکا کو سمجھ لینا چاہیے کہ متناسب جوابی کارروائی کا دور ختم ہوچکا ہے ۔ ایران کے مفادات اور سلامتی کے خلاف کسی بھی جارحیت کا جواب پہلے سے زیادہ تیز، شدید اور تکلیف دہ ہوگا۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سعودی اور ترک ہم منصبوں سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا۔غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ نے سعودی اور ترک وزرائے خارجہ سے علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا، ایرانی وزیر خارجہ کی سعودی، ترک وزرائے خارجہ سے سفارتی کوششوں پر بھی بات ہوئی۔ امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن پانچ روزہ قیام کے بعد اتوار کو تھائی لینڈ سے روانہ ہو گیا۔یہ جہاز ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے آغاز کے فوراً بعد امریکی فوجی تعیناتی کے حصے کے طور پر خلیج فارس کی جانب بھیجا گیا تھا۔یو ایس ایس ابراہم لنکن کے کمانڈر ڈین کیلر نے ایک بیان میں تھائی لینڈ کی میزبانی اور مہمان نوازی پر شکریہ ادا کیا۔جوہری توانائی سے چلنے والے اس جہاز پر تقریباً پانچ ہزار اہلکار تعینات تھے ۔ طیارہ بردار بحری جہاز نے ایران کے ساتھ جنگ، بحری ناکہ بندی اور امریکی فوجی کارروائیوں میں حصہ لیا تھا ۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...